تفہیماتِ ربانیّہ — Page 615
فی الحال انہی پر اکتفا کرتے ہیں۔اور جس رنگ میں مولوی مذکورا اپنی اولاد کی طرف سے ذلیل ہؤا وہ خود ایک طویل داستان ہے۔اس لئے ہم اسے چھوڑتے ہیں۔لیکن میں اس جگہ اس حلفیہ شہادت کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مولوی محمد حسین صاحب کی وفات سے چند دن پیشتر جب کہ خاکسار راقم الحروف اور دیگر بہت سے احمدی طلبہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے ان کی مسجد واقع بٹالہ میں ملے تھے تو انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ " کیا پہلے آپ کی بہت عزت ہوتی تھی اور اب نہیں ہے؟ نہایت غصہ کے لہجہ میں کہا تھا کہ نہ میری پہلے بھی عربت ہوئی نہ اب ہے؟ یہ مرزا صاحب نے یوں ہی لکھ دیا ہے کہ پہلے میری عزت ہوتی تھی اور اب میں ذلیل ہو گیا ہوں۔سچ ہے۔إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ هَانَتَكَ۔مولوی محمد سین صاحب سے میری پہلی ملاقات خاکسار خادم ابوالعطاء چاہتا ہے کہ اب طبع ثانی کے وقت اس جگہ اس پہلی ایمان افروز ملاقات کا تذکرہ بھی کر دے جو اسے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ حاصل ہوئی تھی۔بات یوں ہوئی کہ مجھے مدرسہ احمدیہ کے تعلیمی زمانہ کے اوائل سے ہی یہ خیال تھا کہ میں سلسلہ احمدیہ کے پرانے معاندین سے اُن کی موت سے پہلے پہلے ضرور ملاقات کرلوں۔۱۹۱۸ء۔۱۹۱۹ء کی بات ہے کہ میں مدرسہ احمدیہ قادیان کی تیسری یا چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ابھی قادیان میں ریل جاری نہیں ہوئی تھی۔جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کو بٹالہ ریلوے سٹیشن سے اتر کر پیدل یا یوں وغیرہ کے ذریعہ دارالامان پہنچنا پڑتا تھا۔جلسہ سالانہ حسب دستور دسمبر کے مہینہ میں ہوتا تھا جو خاصی سردی کا مہینہ ہے۔احباب جو بستر ہمراہ لاتے تھے انہیں قادیان تک پہنچنا نے کے لئے گڑوں کا انتظام ہوتا تھا۔ان بستروں کے انتظام ترسیل و حفاظت ، نیز مہمانوں کے بٹالہ میں ٹھہرانے ، اور ان کے استقبال کے لئے مدرسہ احمدیہ کے طلبہ کا ایک گروہ ہمارے استاد حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل (حال امیر جماعت احمدیہ قادیان) کی سرکردگی میں بٹالہ جایا کرتا تھا۔سالہا سال تک مجھے بھی اس خدمت کی سعادت حاصل ہوتی رہی، ۱۹۱۸ یا (615)