تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 592 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 592

رسالہ انجام آتھم صفحہ ۲۱۳ میں ہے۔جو پیشگوئی نکاح کی میعاد گزرجانے سے اڑ ہائی سال بعد طبع ہوا۔(تحقیق صفحہ ۸۲) اقول - ناظرین! آپ ان حوالجات کو پڑھیں جو ہم نے اوپر اشتہار ۱۰ جولائی اور ۱۵ جولائی اور آئینہ کمالات اسلام سے درج کئے ہیں۔اور پھر معترض پٹیالوی کی راست گوئی کی داد دیں۔آہ! جو شخص اس قدر خیانت سے کام لے رہا ہے کہ الہام تُؤْبِي تُؤْبِي فَإِنَّ الْبَلَاءَ عَلَى عقبك کو میعاد نکاح کے بعد ، اور انجام آتھم میں ہی طبع شدہ الہام بتلاتا ہے، اور اس بناء پر پیشگوئی کے شرعی ہونے سے منکر ہے، وہ بھی اپنی ان باتوں کو تحقیق لاثانی“ قرار دے رہا ہے۔بلحاظ کذب بیانی واقعی یہ لاثانی تحقیق ہے۔حقیقت یہ ہے کہ الہام مذکور صریح شرط ہے اور وہ اشتہار ۱۵ار جولائی ( تخمہ اشتہار دس جولائی ۱۸۸۸ء) میں شائع ہو چکا ہے اس کی اشاعت بعد میعاد بتا نا کھلی بددیانتی ہے۔نا قوله (۲) اگر تو بی توبی کو شرط مانا جاوے، تو معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے ملہم نے اُن کو فریب دے کر ذلیل کیا کہ ادھر تو نکاح کے قطعی اور حتمی وعدے کرتا رہا۔مگر مخالفوں کو شرط کا فائدہ دے کر آسمان پر پڑھایا ہو ا نکاح زمین پر ادھیڑ دیا ( تحقیق صفحه ۱۳۴) اقول - جب توبی توبی شرط ہے اور نکاح اور اس کے حتمی وعدوں کے لئے ہی شرط ہے تو اس میں قریب کیسا اور ذلیل کرنا چہ معنی دارد؟ اگر حالات اس شرط کے مطابق پیدا ہو جاتے اور پھر وہ مشروط وعدے ظاہری طور پر پورے نہ ہوتے تو بیشک آپ کو اعتراض کا حق ہوتا۔مگر اب تو صریح ظلم ہے۔قوله - (۳) ” ان حوالوں سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا صاحب وقوع نکاح پر کتنا زور دیتے تھے۔مگر یہ ان کی چالا کی ہے کہ انہی کتابوں میں دوسری جگہ ایسی عبارتیں بھی لکھ جاتے تھے کہ جو پیشگوئی کے غلط ہونے پر ان کے کذب کی پردہ پوشی کا کام دیں۔‘ ( تحقیق صفحہ ۱۷۸) اقول - ناظرین! یہ ایک دشمن کے الفاظ ہیں۔ایسی عبارتوں سے اُس کی مراد شرط کا تذکرہ ہے۔جو حضرت نے اپنی کتابوں میں فرمایا ہے جن میں وقوع نکاح پر زور دیا ہے۔(592)