تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 593 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 593

پس اس اقرار کے باوجود معترض پٹیالوی کا ان ”ایسی عبارتوں کو چھوڑ کر صرف وقوع نکاح پر زور دینا گویا حضرت کی کلام میں تحریف کرنا اور صرف لَا تَقْرَبُوا الصَّلوة کہنے والے کے نقش قدم پر چلنا ہے۔کیا ایسے لوگ بھی محقق کہلا سکتے ہیں؟ انجام آتھم صفحہ ۳۲ کے حاشیہ کے تذکرہ کے بعد معترض لکھتا ہے :۔(۴) قوله ” اب غور کرنے سے ظاہر ہے کہ تُو بی تویی والی شرط اگر تھی ، تو صرف اڑھائی سالہ پیشگوئی کے متعلق تھی۔بعد میں جب دوبارہ پیشگوئی کی کہ سلطان محمد کا مرنا میری حیات میں تقدیر مبرم ہے اور اس کی بیوہ کا مجھ سے نکاح ہوناہل ہے۔اس کے لئے کوئی شرط نہیں لگائی گئی تھی۔تحقیق صفحہ ۱۱۸) اقول۔گویا سلطان محمد کی موت کے لئے تو شرط کا ہونا تسلیم کر لیا۔ہاں اب انجام آتھم کے حاشیہ کی عبارت کو دوبارہ پیشگوئی قرار دے کر اسے بلاشرط قرار دیتا ہے۔حالانکہ یہ خود باطل ہے۔حضرت نے نفس پیش گوئی کو تقدیر مبرم قرار دیا ہے۔مگر اس تقدیر مبرم کے حل کرنے کے لئے ساتھ ہی لکھ دیا ہے :- اور ضرور ہے کہ یہ وعید کی موت اس سے تھی رہے جب تک کہ وہ گھڑی آجائے جو اسے بیباک کر دیوے۔“ (تحقیق صفحہ ۱۱۷) گویا جسے پٹیالوی صاحب نے اپنی کم علمی کے باعث دوبارہ پیشگوئی سمجھ کر بلا شرط بتایا تھا اس کو خود اس کی منقولہ عبارت میں سلطان محمد کی بیا کی سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔اور اس جگہ تقدیر مبرم کا یہی مطلب ہے۔ورنہ مطلق تقدیر مبرم کے لئے شرط کا ذکر غیر مناسب ہے۔خود معترض پٹیالوی نے بھی حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی رحمتہ اللہ تعالیٰ کے مکتوب صفحہ ۲۱۷ کے ترجمہ میں لکھا ہے :- دوسری ( تقدیر ) وہ جس کا معلق ہونا صرف خدا تعالیٰ کے ہی پاس ہے، اور لوح محفوظ میں قضائے مبرم کی شکل رکھتی ہے۔اور قضائے معلق کی اس دوسری قسم میں بھی پہلی قسم کی طرح تبدیلی کا احتمال ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ سید قدس سرہ کا قول بھی (یعنی در قضائے مبرم پیچ کس را "" (593)