تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 590 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 590

الهام يَمُوتُ وَيَبْقَى مِنْهُ كِلَابُ مُتَعَدِّدَةٌ “ سے عیاں ہے۔مجھے یقین ہے کہ جو شخص ایک مچھلتی ہوئی نظر بھی متذکرہ صدر حوالجات پر ڈالے گا۔وہ ان نتائج ستہ سے ملح قلب کے ساتھ متفق ہوگا۔ان نتائج کے دو حصے بہت ہی اہم ہیں۔یعنی ان ہر دو (خسر اور داماد) کی ہلاکت کا شرطی ہونا، اور نکاح کا اُن کی موت کے وقوع پر موقوف ہونا۔اگر کوئی مخالف ان دو باتوں کو تسلیم کرلے، تو پھر اُسے اس عظیم الشان نشان کے خلاف منہ کھولنے کی جرات نہیں ہو سکتی۔اس لئے میں ان دو باتوں کے متعلق حوالجات بالا کے علاوہ ذرا تفصیل سے لکھنا چاہتا ہوں۔پیشگوئی شرطی ہے! ہمارے اس دعوی کے دو حصے ہیں۔(الف) احمد بیگ اور اُس کے داماد کی موت شرطی ہے۔(ب) محمدی بیگم کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نکاح میں آنا بھی شرطی ہے اور وہ احمد بیگ اور سلطان محمد ( داماد احمد بیگ) کی موت پر موقوف ہے۔اس دعوئی کے پہلے حصہ کے مندرجہ ذیل ثبوت ہیں۔ثبوت اول - اشتہار ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء میں حضرت نے تحریر فرمایا ہے :- " یہ الہام جو شر طی طور پر مکتوب الیہ کی موت فوت پر دلالت کرتا تھا، ہم کو بالطبع وو اس کی اشاعت سے کراہت تھی۔“ (تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ ۱۱۷ حاشیہ) ثبوت دوم - الهام تُؤْبِى تُوبِى فَاِنَّ الْبَلَاءَ عَلَى عَقِبِكِ جو تمہ اشتہار ار جولائی ۱۸۸۸ء میں شائع ہوا۔جس میں احمد بیگ اور اس کے داماد کی موت کو عدم تو بہ کی شرط کے ساتھ مشروط بتایا گیا ہے۔ثبوت سوم - آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۶۹ کے الفاظ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ وَيَكُونُونَ مِنَ التَّوابین سے بھی صاف ظاہر ہے کہ ان کی موت عدم تو بہ کی صورت میں مقدر تھی۔ثبوت چہارم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بطور ایک کلیہ فرمایا ہے۔" وَمَا كَانَ الْهَاءَ فِي هَذِهِ الْمُقَدَّمَةِ إِلَّا كَانَ مَعَهُ شَرط كَمَا قَرَعْتُ عَلَيْكَ فِي التَّذْكِرَةِ (590)