تفہیماتِ ربانیّہ — Page 589
جن میں سے بہت سے حوالجات کو مختلف پیرایوں میں حسب منشاء تحریف کر کے معترض پٹیالوی نے تحقیق لاثانی کے ایک سو صفحات میں درج کیا ہے۔لیکن ان سب کا مفاد وہی ہے جو او پر والے بنیادی حوالجات میں مذکور ہے۔ان حوالجات سے جو امور ثابت ہیں وہ حسب ذیل ہیں :- اوّل۔یہ پیشگوئی محض بطور نشان ہے۔اور اس نشان کے دو پہلو ہیں۔اگر وہ رشتہ کرنا قبول کریں تو رحمت کا نشان دیا جائے گا ورنہ عذاب اور بلاؤں کا نشان۔دوم - بلاؤں کی صورت میں ان کے گھر کی عام بر بادی ، ویرانی اور خاندان کی تباہ حالی کے علاوہ، مرزا احمد بیگ کسی دوسری جگہ رشتہ کرنے کے بعد تین سال بلکہ اس سے قریب عرصہ میں مرجائے گا اور اس کا داماد عرصہ اڑھائی برس میں مر جائے گا۔سوم - نکاح کا ہونا ان ہلاکتوں کے بعد اور ان پر موقوف ہے۔یعنی جب تک یہ موتیں وقوع پذیر نہ ہو جا ئیں نکاح کا متحقق نہیں ہوسکتا۔چهارم - احمد بیگ، اس کے داماد کی موت نیز اس کے اقارب کی بربادی، تکذیب و استہزاء کے نتیجہ میں ہوگی۔جو انہوں نے اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف اختیار کر رکھی تھی۔جیسا کہ فقرہ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا بِهَا يَسْتَهْزِؤُنَ واضح ہے۔سے پنجم - بناہ پیشگوئی تکذیب ہے لیکن تاہم ان کو تو بہ کی ترغیب دی گئی ہے۔الہام تُؤْبِى تُؤْبِی فَإِنَّ الْبَلَاءَ عَلَى عَقِبِكِ اس پر شاہد ہے۔اور آئینہ کمالات اسلام کے الفاظ " قَلِيلًا قَلِيلًا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ وَيَكُونُونَ مِنَ التَّوَّابِينَ “ اس پر محکم نص ہیں۔یعنی عذاب کے آہستہ آنے میں منشاء الہی یہی ہے کہ تا وہ تو بہ کر کے رجوع کریں۔گویا پیشگوئی مشروط بعدم التوبہ ہے۔ششم - محمدی بیگم کی نانی پر مصیبت آئے گی۔اور اس سارے قصہ میں بطور نتیجہ صرف ایک شخص مرد (احمد بیگ) کی موت واقع ہوگی۔اور اس پیشگوئی کا ظہور ا یسے رنگ میں ہوگا کہ بہت سے منکرین اعتراض کے لئے لب کشائی کریں گے جیسا کہ (589)