تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 53 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 53

اس لئے ہم اس کی طرف زیادہ توجہ دینا نہیں چاہتے۔اور یوں یہ بات نہایت واضح ہے کہ جب سید الاولین والآخرین صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ کی ملازمت کی۔حضرت یوسف نے فرعون مصر کے ماتحت خزانچی یا وزیر مال کے عہدہ پر مامور ہونے کو پسند کیا اور عرصہ تک اس عہدہ پر متعین رہے۔بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کفار مکہ کی بھی بکریاں چراتے رہے جیسا کہ خود حضور فرماتے ہیں كُنتُ اَرْعَاهَا عَلَى قَرَارِيطَ لأهل مكة (بخاری جلد ۲ صفحه ۲۱ کتاب الاجارة ) کہ میں چند قیراط ( معمولی پیمانہ یا سکہ ) کے عوض اہلِ مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔تو پھر محتار ہونے یا ملازم ہونے کا اعتراض ہی بالکل لغو ہے اور اسی لئے وہ اسے واپس لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔مجد دبیت ، محد ثیت ، امام الزمان ہونا مہدویت و مسیحیت اور نبوت کے دعوے کا وجود درست ہے مگر نہ معلوم اس میں اچھی کون سی بات ہے۔اگر متنوع دعاوی باعث اعتراض ہیں تو لیجئے سنئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محمد ، احمد ، المساحی ، الحاشر ہیں اور پھر مثیل موسیٰ ، وہ نبی ، فارقلیط ہیں۔بلکہ لکھا ہے لِلَّهِ سُبْحَانَهُ تَعَالَى الْفُ اِسْمِ وَلَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفُ اِسْمِ بَعْضُهَا فِي الْقُرْآنِ وَالْحَدِيثِ وَبَعْضُهَا فِي الْكُتُبِ الْقَدِيمَةِ کہ اللہ تعالیٰ کے ہزار اسماء ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی ہزار نام ہیں جن میں سے بعض قرآن مجید اور احادیث میں ہیں اور باقی دیگر کتب مقدسہ تورات و انجیل وغیرہ میں ہیں۔“ (زرقانی شرح موطا جلد ۴ صفحہ ۲۴۸) تو کیا آپ اس بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی انکار کر دینگے؟ حضرت مرزا صاحب موعود امم تھے۔سب قومیں موعود آخر الزمان کی منتظر تھیں۔کوئی زمین پر نگاہ رکھتا تھا اور کوئی آسمان کی طرف ٹکٹکی باندھے بیٹھا تھا کہ حضرت مرزا صاحب نے حسب سنتِ الہی دعوئی فرمایا کہ میں سب قوموں کا موعود ہوں۔میں مسیحیوں کا موعود ہوں ، اس لئے مسیح بھی ہوں۔مسلمانوں کے لئے واجب التسلیم ہوں، اس نسبت سے میرا نام مہدی ہے۔وقس على هذا۔پس یہ تنوع قابل اعتراض نہیں بلکہ ایسا ہونا ضروری تھا تا کہ اسلام کی افضلیت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اکملیت پر ایک اور مُہر تصدیق ثبت ہو جائے کیونکہ حضور نے فرمایا تھا لَو كَانَ مُوسى وَعِيسَى حَتَيْنِ مَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِى ( تفسیر فتح البیان جلد ۲ صفحه ۴۲ وغیرہ) کہ اگر موسیٰ اور عیسی زندہ ہوتے تو میری پیروی کے بغیر انہیں چارہ نہ تھا۔اس حدیث میں آپ نے ایک طرف وفات مسیح کا اعلان فرمایا ہے دوسری طرف اپنی شان کا اظہار فرمایا ہے 53