تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 52 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 52

(حقیقة الوحی صفحه ۱۴۹) ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اُسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا۔لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے۔اور ساتھ اس کے صد ہا نشان ظہور میں آئے اور زمین و آسمان دونوں میری تصدیق کے لئے کھڑے ہو گئے اور خدا کے چمکتے ہوئے نشان میرے پر جبر کر کے مجھے اس طرف لے آئے کہ آخری زمانہ میں مسیح آنے والا میں ہی ہوں۔ورنہ میرا اعتقاد تو وہی تھا جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا اور پھر میں نے اس پر کفایت نہ کر کے اس وحی کو قرآن شریف پر عرض کیا تو آیات قطعیۃ الدلالت سے ثابت ہوا کہ در حقیقت مسیح ابن مریم فوت ہو گیا۔“ کیا اس وضاحت بیان کے بعد یہ لکھنا کہ براہین احمدیہ صفحہ ۴۹۸ میں صاف صاف اقرار تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور ان کے ہاتھ سے دینِ اسلام پھیلے گا۔بعد میں خود مسیح بن گئے۔“ (عشرہ صفحہ ۳۲) درست اور دیانتداری پر مبنی ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف طور پر تحریر فرما دیا ہے :۔میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا تا میری سادگی اور عدم بناوٹ پر وہ گواہ ہو۔وہ لکھنا جو الہامی نہ تھا، محض رسمی تھا مخالفوں کے لئے قابل استناد نہیں کیونکہ مجھے خود بخود غیب کا دعوی نہیں جب تک کہ خود خدا تعالیٰ مجھے نہ سمجھا دے۔“ (کشتی نوح صفحہ ۴۷) وو عشرہ کاملہ کے مصنف نے اس دوسری فصل میں بیان کیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب پہلے معمولی محزر تھے پھر مجد ، محدث، بی ، مہدی، امام الزمان اور نبی بن گئے۔ہمیں ان چھ امور سے اتفاق ہے۔محرر ہونے کا ذکر اگرچہ طنزاً کیا گیا ہے مگر مصنف نے خود ہی طبع دوم کے دیباچہ میں لکھ دیا ہے کہ :۔میں نے مرزا صاحب کی مختلف اور مسلسل حالت کا اظہار کیا ہے اعتراض نہیں کیا۔“ (صفحہ ۵) 52