تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 562 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 562

يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ (المؤمن رکوع ۴) کہ اگر یہ رسول سچا ہے تو پھر اس کی پیشگوئیوں میں سے بعض ضرور تم کو پہنچ جائیں گی۔گویا پیشگوئیوں کو علامت صدق قرار دیا ہے۔قرآن مجید کا سرسری مطالعہ کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ ہر نبی اپنے دشمنوں کو پیش گوئیاں عناکر ، اپنی کامیابی اور ان کی بربادی کا آسمانی وعدہ بتا کر، کہتا رہا ہے وَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنتَظِرِينَ۔ہم دونوں فریق انتظار کرتے ہیں جو غیب سے ظاہر ہوگا وہ ہمارے صدق یا کذب کا گواہ ہوگا۔کفار کا مقولہ منى هذا لْوَعْدُ انَ كُنتُمْ صدقین کہ اگر تم سچے ہو تو یہ پیشگوئی کب پوری ہوگی ، قرآن مجید میں بکرات ومرات دُہرایا گیا ہے۔مگر کسی ایک جگہ بھی یہ جواب نہیں دیا گیا کہ نادانو! ہم نے کب ان پیشگوئیوں کو معیار صدق و کذب بتایا ہے جو تم بار باران كُنتُم صَادِقِينَ کہہ رہے ہو؟ قرآن مجید کا یہ اسلوب کلام صاف بتا رہا ہے کہ پیشگوئی معیارِ صدق و کذب ہے اور انبیاء اور ان کے متبعین ان کو بطور معیار صداقت پیش کرتے رہے ہیں۔فطرت انسانی بھی اسی کی مؤید ہے۔حتی کہ ایک جگہ معترض پٹیالوی نے بھی لکھا ہے :- جس مدعی کی ایک پیشگوئی بھی غلط ثابت ہو وہ کا ذب اور مفتری علی اللہ ہے۔“ ( تحقیق صفحه ۱۵۸) جب ایک پیشگوئی کا غلط ہونا مدعی نبوت کے کذب کی دلیل ہے تو گویا تم نے خود مان لیا کہ نہ پورا ہونا دلیل کذب اور پورا ہو جانا دلیل صدق ہے۔8 حق بر زباں جاری۔یاد رکھو پیشگوئی کرنا انسانی طاقت سے باہر ہے۔مصفی غیب بجز نبیوں کے کسی پر کھولا نہیں جاتا۔ایسے امور غیبیہ جو عظیم الشان اور فوق العادت بشارت یا انذار پر مشتمل ہوں صرف رسولوں پر ہی ظاہر کئے جاتے ہیں تا کہ ان کی سچائی پر گواہ ہوں۔یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ پیشگوئیاں ہر نبی کو دی جاتی ہیں اور وہ ان کے ذریعہ اہلِ انصاف لوگوں پر اپنے دعوئی کے متعلق اتمام حجت کرتا ہے اور مومنوں کے لئے اس کے نشانات بہت واضح ہوتے ہیں۔لیکن منکرین اور کفار کی نظر میں انبیاء کی کوئی پیشگوئی بچی نہیں ہوتی ، ان کا کوئی نشان ان پر انکی راستبازی کو عیاں کرنے والا نہیں ٹھہرتا ، (562)