تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 51 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 51

کوئی بے وقوف یہ سوال کر سکتا ہے کہ پہلے آپ نے یونس سے افضل ہونے سے انکار کیا ہے اور اب سب نبیوں سے افضلیت کا دعویٰ ہے تو اس میں تضاد ہے؟ کیونکہ دراصل نبی اپنی مرضی سے کچھ کر ہی نہیں سکتا۔جب تک اللہ تعالیٰ نے حضور" پر تصریح نہ فرمائی آپ اپنی انکساری اور خاکساری کے ماتحت عدم افضلیت کا ذکر فرماتے رہے اور جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو افضل کہا تو آپ نے بھی اعلان کر دیا۔بعینہ یہی حال سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے۔نادان مخالف ان کی ترقیات کو ارتقائی کہہ کر ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل گردانتا ہے حالانکہ یہ بات صداقت کی زبر دست دلیل ہے کہ جب تک وحی الہی نے کھول کر نہ بتا دیا کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام وفات پاگئے ہیں آپ اُن کی زندگی کا اعلان کرتے رہے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس راز کو آپ پر کھول دیا تو آپ نے صفائی سے اس کا اظہار فرما دیا۔یہ بات آپ کی سچائی کی دلیل ہے۔ورنہ اگر آپ نے منصوبہ بنایا ہوتا تو کبھی بھی حضرت مسیح کی زندگی کے متعلق اتنا زور نہ دیتے۔چنانچہ جب حیات مسیح کے عقیدہ پر علماء نے اعتراض کیا تو آپ نے تحریر فرمایا :- (الف) " کیا کیا اعتراض بنارکھے ہیں۔مثلاً کہتے ہیں کہ مسیح موعود کا دعویٰ کرنے سے پہلے براہین احمدیہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا اقرار موجود ہے۔اے نادانو ! اپنی عاقبت کیوں خراب کرتے ہو۔اس اقرار میں کہاں لکھا ہے کہ یہ خدا کی وحی سے بیان کرتا ہوں اور مجھے کب اس بات کا دعوی ہے کہ میں عالم الغیب ہوں؟ جب تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا کہ تو مسیح موعود ہے اور عیسی فوت ہو گیا ہے تب تک میں اُسی عقیدہ پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔اسی وجہ سے کمال سادگی سے میں نے حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی نسبت براہین میں لکھا ہے جب خدا نے مجھ پر اصل حقیقت کھول دی تو میں اس عقیدہ سے باز آ گیا۔میں نے بجز سمال یقین کے جو میرے دل پر محیط ہو گیا اور مجھے ٹور سے بھر دیا۔اس رسمی عقیدہ کو نہ چھوڑا۔“ ( اعجاز احمدی صفحه ۶) (ب) چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اِس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسی آسمان پر سے نازل ہوں گے۔اس لئے میں نے خدا کی وحی کو 51