تفہیماتِ ربانیّہ — Page 541
میں صاف طور پر لکھا ہے :۔ایسے لوگ جو آئندہ کسی وقت جلد یا دیر سے اپنے روپیہ کو یاد کر کے اِس عاجز کی نسبت کچھ شکوہ کرنے کو تیار ہیں یا ان کے دل میں بھی بدظنی پیدا ہو سکتی ہے وہ براہ مہربانی اپنے ارادہ سے مجھ کو بذریعہ خط مطلع فرما دیں اور میں اُن کا روپیہ واپس کرنے کے لئے یہ انتظام کروں گا کہ ایسے شہر میں یا اس کے قریب اپنے دوستوں میں سے کسی کو مقرر کردوں گا کہ تا چاروں حصے کتاب کے لے کر روپیہ ان کے حوالے کرے۔اور میں ایسے صاحبوں کی بدزبانی اور بدگوئی اور دشنام دہی کو بھی محض اللہ بخشتا ہوں۔کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی میرے لئے قیامت میں پکڑا جائے۔اور اگر ایسی صورت ہو کہ خریدار کتاب فوت ہو گیا ہو اور وارثوں کو کتاب بھی نہ ملتی ہو تو چاہئے کہ وارث چار معتبر مسلمانوں کی تصدیق خط میں لکھوا کر کہ اصلی وارث وہی ہے وہ خط میری طرف بھیج دے تو بعد اطمینان وہ روپیہ بھی بھیج دیا جائے گا۔“ تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۳۵) جماعت احمدیہ کا روپیہ، ان کے چندے جو سر آج منیر اور بعض دوسری کتابوں وغیرہ کے لئے ہوئے اُن کا حساب معترض پٹیالوی سے کیا تعلق رکھتا ہے اس پر اُسے معترض ہونے کا کیا حق ہے؟ افراد جماعت احمد یہ اپنے مقدس ہادی اور پاک امام کی راہ میں مال کیا جان تک دینے سے دریغ نہیں کرتے۔چنانچہ سر زمین کابل شاہد ہے کہ حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف رضی اللہ عنہ، حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب شہید، حضرت مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید اور دیگر شہداء نے اپنے خون سے اس کی تصدیق کر دی ہے۔احمدیوں نے اپنے آقا کے حکم پر مال دیئے ، اور (541۔