تفہیماتِ ربانیّہ — Page 542
لاکھوں تک دیئے ، اور دیتے ہیں۔تا تبلیغ دین ہو، اشاعت سلسلہ ہو۔اور مہمانوں کی مہمان نوازی کی جائے وغیرہ وغیرہ۔اس پر تمہیں اعتراض کیوں ہے؟ بالآخر یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ دنیا کے اکثر لوگ جو تاریکی میں پیدا ہوتے اور اسی میں مرجاتے ہیں خدا کے نبیوں پر مالی معاملات میں بھی زبان طعن دراز کیا کرتے ہیں۔رسولِ مقبول کو بھی غنیمتوں کی تقسیم میں مطعون کیا گیا۔غیر تو غیر ایک نوجوان انصاری نے بھی نا کبھی سے کہہ دیا تھا يَغْفِرُ الله لِرَسُولِ اللهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُنَا کہ اللہ تعالیٰ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف فرمائے آپ قریش کو اموال دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں۔(بخاری باب الخمس) پس معترض پٹیالوی کا یہ اعتراض بھی کوئی نیا نہیں۔دنیا جانتی ہے کہ یہ مخالفین حق کا نہایت کمینہ ہتھیار ہے مگر آخر حق کی ہی فتح ہوتی ہے، ہوتی رہی ہے اور آئندہ بھی ہوگی۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کی نظمیں حضرت میر ناصر نواب صاحب قبلہ احمدیت کی حلقہ بگوشی سے پہلے سلسلہ کے سخت مخالف تھے۔چونکہ شاعر تھے اس لئے انہوں نے احمدیت اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف چند نظمیں بھی لکھی تھیں۔جو ان دنوں مخالف اخبارات میں شائع ہوئیں۔معترض پٹیالوی نے اپنی کتاب کے متعدد مقامات پر ان نظموں کو مرزا صاحب کے نخسر میر ناصر نواب دہلوی کے چند اشعار لکھ کر درج کیا ہے۔حالانکہ دوران مخالفت کی باتوں کو ان کے ایمان لانے اور بیعت کرنے نے خود بخود باطل کر دیا تھا۔اور انصاف کا تقاضا تھا کہ ان غلط باتوں کی پھر اشاعت نہ کی جاتی۔بالخصوص جبکہ حضرت میر صاحب مرحوم نے ان تمام باتوں کی تردید میں اشتہار بھی شائع کر دیا تھا جو درج (542)