تفہیماتِ ربانیّہ — Page 528
" كُنَّا عِنْدَ إِسْمَعِيْلَ بْنِ عَلِيَّةَ فَحَدَّثَ رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ فَقُلْتُ إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِثَبْتٍ قَالَ فَقَالَ الرُّجُلُ اغْتَبْتَهُ فَقَالَ إِسْمَعِيْلُ مَا اغْتَابَهُ وَلَكِنَّهُ حَكَمَ أَنَّهُ لَيْسَ مسلم شریف جلد اول مطبوعه مصر صفحه ۱۶) بِثَبت۔کہ ہم امام اسمعیل بن علیہ کے پاس تھے، ایک آدمی نے کسی سے روایت بیان کی۔میں نے کہہ دیا کہ یہ راوی تو ثقہ نہیں۔اُس آدمی نے کہا کہ تو نے اس کی غیبت کی ہے۔امام صاحب نے فرمایا نہیں اس نے اُس کی غیبت نہیں کی بلکہ اس نے تو محکم لگایا ہے کہ وہ شخص قابل اعتبار نہیں۔“ ناظرین کرام ! گویا حکم لگانے اور غیبت میں فرق ہے۔میں کہتا ہوں اسی طرح انبیاء و مامورین کی ضرورت کے وقت کی سختی اظہار امر واقعہ ہوتی ہے گالی نہیں ہوتی۔علماء کی حالت اور حدیث نبوی ان دو اصولی جوابات کے بعد کہ حضرت نے جو کچھ تحریر فرمایا مدافعت کے رنگ میں تحریر فرمایا اور عین ضرورت کے وقت موقع پر چسپاں ہونے والے الفاظ میں بیان فرمایا۔ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جن علماء کی خاطر معترض پٹیالوی چیں بجبیں ہوتے ہیں ان کے متعلق رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا ارشاد ہے۔فرمایا اُمتِ محمدیہ پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ عُلَمَاءُ هُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ آدِيْمِ السَّمَاءِ (مشکوۃ کتاب العلم) جب ان کے علماء بدترین مخلوق ہوں گے۔ظاہر ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کا پورا ہونا ضروری ہے۔اور اس وصف والے علماء وہی ہو سکتے ہیں جو مسیح موعود کے مخالف ہوں گے۔کیونکہ وہی وقت ہے جب اسلام کا صرف نام، اور قرآن کا فقط نقش ، باقی رہ جانا مقدر ہے۔ہمارے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح موعود مبعوث ہو چکے ہیں اسلئے ان کے مخالف علماء انہیں گالیاں دینے والے علماء ، اس حدیث کا واقعی مصداق ہیں۔ان کے متعلق رسول پاک کے الفاظ (528)