تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 524 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 524

استعمال الزامی طور پر مرزا صاحب کی تصانیف و تقاریر سے ہی کیا گیا ہے اور اپنی طرف سے کسی جگہ زیادتی و سبقت نہیں کی گئی۔(عشرہ صفحہ ۱۵) اب اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ابتداء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے نہیں ہوئی بلکہ علماء کی طرف سے ہوئی تو کیا معرض پٹیالوی کے سبقت“ والے قانون کے مطابق اس کا یہ اعراض خود بخود باطل نہ ہو جائے گا ؟ حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں :- تمام مخالفوں کی نسبت میرا یہی دستور رہا ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی مخالف کی نسبت اس کی بدگوئی سے پہلے خود بدزبانی میں سبقت کی ہو۔مولوی محمد حسین بٹالوی نے جب جرات کے ساتھ زبان کھول کر میرا نام دقبال رکھا اور میرے پر فتوی کفر لکھوا کر صدہا پنجاب و ہندوستان کے مولویوں سے مجھے گالیاں دلوائیں اور مجھے یہود و نصاری سے بدتر قرار دیا اور میرا نام کذاب ، مفسد، دجال، مفتری، مکار ، ٹھگ، فاسق ، فاجر ، خائن رکھا تب خدا نے میرے دل میں ڈالا کہ صحت نیت کے ساتھ ان تحریروں کی مدافعت کروں۔میں نفسانی جوش سے کسی کا دشمن نہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ہر ایک سے بھلائی کروں مگر جب کوئی حد سے بڑھ جائے تو میں کیا کروں۔میرا انصاف خدا کے پاس ہے۔ان سب مولوی لوگوں نے مجھے دُکھ دیا اور حد سے زیادہ دُکھ دیا اور ہر ایک بات میں ہنسی اور ٹھٹھا کا نشانہ بنایا۔پس میں بجز اس کے کیا کہوں لِحَسْرَةٌ عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ ( تم حقیقة الوحی صفحه ۲۱) کھلا چیلنج ناظرین کرام! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ دعویٰ ہے کہ میں نے سخت زبانی میں کبھی اور کسی کے متعلق ابتداء نہیں کی۔جب کبھی ایسا ہؤا بطور مدافعت ہوا۔معترض کہتا ہے کہ " سخت کلامی و درشتی کی ابتداء مرزا صاحب کی طرف سے ہی ہوتی تھی۔اب فیصلہ کا طریق بالکل آسان ہے اور وہ یہ کہ (524)