تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 525 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 525

واقعات کے رُو سے ہمارے مخالف کسی ایک مولوی وغیرہ کے متعلق حضرت کے سخت الفاظ پیش کریں جس نے ان الفاظ سے پہلے بد زبانی نہ کی بلکہ بد زبانی میں حد سے بڑھ نہ گیا ہو۔مخالفین کو ہماری طرف سے یہ کھلا چیلنج ہے۔مگر وہ ہرگز اس طریق سے فیصلہ کے لئے تیار نہ ہونگے۔وہ زبانی ہزار باتیں بنائیں مگر واقعات کے لحاظ سے حضرت کی طرف سے سخت الفاظ کی ابتداء ثابت کرنا ناممکن،محال اور ممتنع ہے۔مولوی ثناء اللہ صاحب کی گواہی رکس نے ابتداء کی اور کون ” الْبَادِی أَظْلَمُ “ کا مصداق ہے؟ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری لکھتے ہیں کہ : وو مرزا صاحب کے دعوای مسیحیت پر سب سے اول مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اُٹھے۔جنہوں نے مرزا صاحب کے اقوال کو یکجا کر کے علماء کرام سے اُن کے برخلاف ایک فتویٰ لیا جو اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں چھاپا۔مگر حق یہ ہے کہ بعد اس فتویٰ کے مرزا صاحب نے بجائے دینے کے اپنے خیالات اور مقالات میں جو ترقی کی ان کو دیکھتے ہوئے یہ فتویٰ جن خیالات پر علماء نے دیا تھا وہ کچھ بھی حقیقت نہ رکھتے تھے۔“ (رسالہ تاریخ مرزا صفحہ ۲۷) مولویوں نے فتوی کفر وغیرہ میں ابتداء کی اور ان خیالات پر فتوے دیئے جن کی مولوی ثناء اللہ صاحب کے نزدیک کچھ بھی حقیقت نہ تھی۔بہر حال یہ ثابت ہو گیا کہ سخت زبانی میں ابتداء کرنے والے علماء ہی تھے۔پس معترض کے اپنے اصولِ سبقت کے لحاظ سے یہ اعتراض باطل ہے۔ا قارئین کرام ! یہ واضح چیلنج آج سے چونتیس برس قبل شائع کیا گیا تھا مگر کسی شخص کو اس طریق سے فیصلہ کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ہم آج پھر اسے دُہراتے ہیں۔کیا کوئی ہے جو اس منصفانہ طریق پر فیصلہ کرے۔(خاکسارا بوالعطاء جالندھری۔۲ رنومبر ۱۹۶۴ء) (525)