تفہیماتِ ربانیّہ — Page 523
تھے۔قارئین کرام ! یہ کتنا غلط استدلال ہے۔ایک ادنی سمجھ کا آدمی بھی جان سکتا ہے کہ یہ طرز کلام الزاماً ہوا کرتا ہے اور لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں تو صاف بتارہاہے کہ یہ حض لوگوں کا خیال ہے حضرت کا اپنا خیال نہیں۔یا زیادہ سے زیادہ بعض حوالجات کی بناء پر اس کو انجیل سے ماخوذ خیال کیا جاسکتا ہے۔وو فقر ششم مرزا صاحب کی اخلاقی حالت علماء کو گالیاں دینے کے الزام کا جواب۔اس ذیل میں معترض نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ الزام لگایا ہے کہ آپ نے علماء کو گالیاں دی ہیں۔چنانچہ لکھتا ہے :۔علماء اسلام نے چونکہ مرزا صاحب کے دعووں کو نہ مانا بلکہ لوگوں کو ان کی چالاکیوں اور خلاف شرع تعلیم سے آگاہ کر دیا اس لئے مرزا صاحب ان کے بہت ہی خلاف تھے اور ان کو نہایت غلیظ گالیوں اور گندہ الفاظ سے یاد کیا کرتے ممکن ہے کہ بالمقابل بھی کسی نے ترکی بہتر کی خطاب کیا ہو۔۔۔یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ عام طور پر سخت کلامی اور درشتی تحریر کی ابتداء مرزا صاحب کی طرف سے ہی ہوتی تھی۔“ (عشرہ صفحہ ۱۲۶) ابتداء کس نے کی؟ پٹیالوی صاحب نے اس عبارت میں دو دعوے کئے ہیں۔اول یہ کہ حضرت نے علماء کو گالیاں دیں۔دوم یہ کہ ان گالیوں میں ابتداء آپ ہی کی طرف سے ہوئی۔گالیوں کی حقیقت بتانے سے قبل اس امر کا فیصلہ ضروری ہے کہ اس باب میں ابتداء کس کی طرف سے ہوئی کیونکہ معترض کا اپنا مسلم اصول ہے۔چنا نچ لکھتا ہے کہ :- اس کتاب (عشرہ کاملہ) میں ناظرین بعض جگہ ایسے الفاظ بھی دیکھیں گے جو سنجیدگی و متانت کی رُو سے قابلِ اعتراض اور غیر مانوس معلوم ہوتے ہیں لیکن اس کے متعلق صرف اتنا عرض کیا جاتا ہے کہ ایسے الفاظ کا 523