تفہیماتِ ربانیّہ — Page 515
" عَجِبْتُ كُلَّ الْعَجَبِ مِنَ الَّذِينَ لَا يُفَكِّرُونَ فِي هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي هِيَ لِنَبُوَّةِ نَبِيَّنَا كَالْعَلَامَاتِ وَيَقُولُونَ إِنَّ عِيسَى تَوَلَّدَ مِنْ نُطْفَةٍ يُوْسُفَ آبِيْهِ وَلَا يَفْهَمُونَ الْحَقِيْقَةَ مِنَ الْجَهَلَاتِ “ مواهب الرحمن صفحہ ۷۷) ترجمہ۔مجھے ان لوگوں پر بہت تعجب ہے جو ان آیات پر غور نہیں کرتے حالانکہ یہ ہمارے نبی کریم کی نبوت کی علامات ہیں۔اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی اپنے باپ یوسف نجار کے نطفہ سے پیدا ہوئے ہیں۔یہ لوگ جہالتوں کے باعث حقیقت کو نہیں سمجھتے ہے ان اقتباسات سے ظاہر ہے کہ حضور کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت بغیر باپ کے ہوئی تھی۔ایک مقام پر حضرت مریم صدیقہ کے ذکر میں فرمایا :- و بعض افراد امت کی نسبت فرمایا ہے کہ وہ مریم صدیقہ سے مشابہت رکھیں گے جس نے پارسائی اختیار کی۔تب اس کے رحم میں عیسیٰ کی روح پھونکی گئی اور عیلے اس سے پیدا ہوا۔“ (کشتی نوح صفحہ ۴۵ طبع کلاں) گویا حضرت مریم کی پارسائی اور حضرت مسیح کی بے باپ ولادت پر آپ اعتقاد رکھتے تھے۔اس واضح صداقت کے بعد آپ پٹیالوی صاحب کی دیانت ملاحظہ کریں۔لکھتے ہیں :- مرزا صاحب بھی یہودیوں کی طرح حضرت مریم علیہا السلام کو زانیہ اور عیسیٰ علیہ السلام کو ناجائز تعلقات کی پیدائش سمجھتے تھے۔“ (عشرہ صفحہ ۱۱۵) ناظرین کرام! ہم حضرت کے الفاظ او پر درج کر چکے ہیں۔معترض نے اس عبارت میں حضرت کا نام لے کر در حقیقت اپنی یہودیت کا ثبوت دیا ہے۔مریم صدیقہ کو ملزم گردانا، نیز حضرت کے کلام میں خیانت اور تحریف کی۔سچ ہے تَشابَهَتْ قُلُوبُهُمْ - حضرت مسیح موعود لے یہ الفاظ اہلِ پیغام اور ان کے امیر کے لئے بھی قابل غور ہیں۔(مؤلف) (515)