تفہیماتِ ربانیّہ — Page 460
ہے۔نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا - غیر مادی وجود کی جسمانی تصویر ناممکن ہے لیکن روحانی اور تمثیلی تصویر مکن مثلاً وفاداری، محبت اور غضب غیر مادی چیزیں ہیں ، مگر روز مرہ محاورات میں بولا جاتا ہے فلاں شخص پیکر وفا اور تصویر محبت ہے یا مجسم غضب ہے۔تصویر سے مراد روحانی اور تمثیلی تصویر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں سے بھی ایسے روحانی تصور کا استنباط کیا جاسکتا ہے۔لیکن یہ کوئی قابل اعتراض چیز نہیں بلکہ تمام الہامی کتابیں اس پر متفق ہیں دیکھئے (1) تورات میں لکھا ہے :- تب خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت اور اپنی مانند بنا ئیں۔“ ( پیدائش ۱/۲۶) (۲) قرآن مجید میں ہے اِنِّی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً۔میں زمین میں اپنا قائم مقام بنانیوالا ہوں۔نواب صدیق حسن خان صاحب نے بھی لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت آدم کو اپنا مظہر بنایا۔“ ( مجموعہ فتاوی حصہ دوم صفحہ ۲۷) پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَةٌ ـ (بقره رکوع ۱۶) تم اللہ تعالیٰ کا رنگ پیدا کرو، اس میں رنگین ہو جاؤ اور اللہ سے بڑھ کر اچھا رنگ کس کا ہو سکتا ہے۔“ (۳) حدیث میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔اِنَّ اللهَ خَلَقَ أَدَمَ عَلَى صُورَتِهِ۔اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔پھر تاکیداً فرمایا تَخَلَّفُوا بِاخْلَاقِ الله اے لوگو! تم اللہ تعالیٰ کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرو۔کیا ان حوالہ جات کی موجودگی میں کوئی دیانتدار شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کوئی اعتراض کر سکتا ہے؟ (ج) آج ہمارے مخالف محض لفظ تصویر ، اور وہ بھی روحانی تصویر، پر اس طرح معترض ہورہے ہیں کیا ان کو یاد نہیں کہ اسلام کے نادان مخالف قرآن مجید اور حدیث پر بھی یہی اعتراض کرتے رہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ :- (۱) خدا کی انگلیاں بھی ہیں :۔حدیث میں ہے قَلْبُ الْمُؤْمِنِينَ بَيْنَ إصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ که مومن کا دل رحمن کی دو انگلیوں میں ہوتا ہے۔(460)