تفہیماتِ ربانیّہ — Page 459
ہوا یا آنکھ کے نور کی طرح خدا تعالیٰ سے نسبت رکھتا ہے اس طرف ساتھ ہی حرکت کرنی پڑتی ہے یا یوں کہو کہ خدا تعالیٰ کی جنبش کے ساتھ ہی وہ بھی بلا اختیار و ہلا ارادہ اسی طور سے جنبش میں آجاتا ہے کہ جیسا اصل کی جنبش سے سایہ کا ہلنا طبعی طور پر ضروری امر ہے پس جب جبریلی نور خدا تعالیٰ کی کشش اور تحریک اور نفخہ روحانیہ سے جنبش میں آجاتا ہے تو معاً اس کی ایک عکسی تصویر جس کو روح القدس کے ہی نام سے موسوم کرنا چاہئے۔محب صادق کے دل میں منقش ہو جاتی ہے اور اس کی محتبت صادقہ کا ایک عرض لازم ٹھیر جاتی ہے۔تب یہ قوۃ خدا تعالیٰ کی آواز سکنے کے لئے کان کا فائدہ بخشتی اور اس کے عجائبات کے دیکھنے کے لئے آنکھوں کا قائم مقام ہو جاتی ہے اور اس کے الہامات زبان پر جاری ہونے کے لئے ایک ایسی محرک حرارت کا کام دیتی ہے جو زبان کے پہیہ کو زور کے ساتھ الہامی خط پر چلاتی ہے۔“ (صفحہ ۷۸-۷۹) قارئین کرام ! آپ غور فرما دیں کہ کیا ان عبارتوں میں خدا تعالیٰ کی عکسی تصویر بن جانے کا ذکر ہے۔توضیح المرام کے حوالہ میں معترض نے ایک سطر چھوڑ کر دھوکہ دیا تھا۔مکمل حوالہ پڑھنے سے صاف گھل جاتا ہے کہ اس جگہ جبریلی نور کی عکسی تصویر کا ذکر ہے اوروہ بھی صرف رُوح القدس کے معنوں میں۔حقیقۃ الوحی کے حوالہ میں روحانی تصویر کا ذکر ہے۔اس کی تشریح کرنے کے بعد صاف لکھا ہے کہ صورت سے مرادرُ وحانی تشابہ ہے۔کیا روحانی تشابہ کا ذکر غلط ہے یا شرک ہے؟ بہر حال معترض پٹیالوی نے حقیقۃ الوحی اور توضیح المرام کے حوالہ سے جو اتهام باندھا ہے سراسر غلط ہے ے خشت اول چوں نہر معمار کج * تا ثریا می رود دیوار کج (ب) بے شک اللہ تعالیٰ کا ایک لطیف وجود ہے جو حدود و قیود اور تمیز و مجسم سے بالا ہے اسلئے اس کی جسمانی تصویر ناممکن محض ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی صفات کے لحاظ سے ایک روحانی تصور ضروری ہے جسکو انسانی عقل سمجھ سکے۔لا يكلف الله (459)