تفہیماتِ ربانیّہ — Page 432
کر دے خاص طور سے محبت رکھو۔اور جب تک کسی کو نہ دیکھو کہ وہ اس سلسلہ سے کسی مخالفانہ فعل یا قول سے باہر ہو گیا تب تک اسکو اپنا ایک عضو سمجھو۔“ (ازالہ اوہام صفحه ۳۳۹ طبع سوم ) پھر بلعم بن باعور کا واقعہ خود قرآن مجید میں مذکور ہے وہ قرب میں لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ کا مصداق ہو چکا تھا مگر پھر اعمال بد کے باعث راندہ درگاہ بن گیا۔میر عباس علی لدھیانوی کے ذکر میں حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں :- " اس کے حالات سے یہ تجربہ ہوا کہ اگر کسی شخص کی نسبت خوشنودی کا بھی الہام ہو تو بسا اوقات خوشنودی بھی کسی خاص وقت تک ہوتی ہے۔یعنی جب تک کہ کوئی خوشنودی کے کام کرے جیسا کہ خدا تعالی قرآن شریف میں کافروں پر جابجا غضب ظاہر فرماتا ہے اور جب ان میں سے کوئی مومن ہو جاتا ہے تو معا وہ غضب رحمت کے ساتھ بدل جاتا ہے اور اسی طرح کبھی رحمت غضب کے ساتھ بدل جاتی ہے۔اسی وجہ سے حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص بہشتیوں کے اعمال بجالاتا ہے یہاں تک کہ اس میں اور بہشت میں ایک بالشت کا فرق رہ جاتا ہے اور دراصل قضا و قدر میں وہ جہنمی ہوتا ہے تو آخر کار کوئی ایسا عمل یا کوئی ایسا عقیدہ اس سے سرزد ہو جاتا ہے کہ وہ جہنم میں ڈالا جاتا ہے۔اسی طرح ایک شخص بہشتی ہوتا ہے اور جہنمیوں کے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس میں اور جہنم میں صرف ایک بالشت کا فرق رہ جاتا ہے آخر کار اس کی تقدیر غالب آجاتی ہے اور پھر وہ نیک عمل بجالا نا شروع کرتا ہے اور اسی پر اس کی موت ہوتی ہے اور بہشت میں داخل کیا جاتا ہے۔“ (حقیقة الوحی صفحه ۲۹۵) الغرض ۳۱۳ کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے بعد عبد الحکیم وغیرہ کا مرتد ہو جانا اور ان کی حالت کا بدل جانا عقلاً وشرعاً ناممکن نہ تھا بلکہ حضرت اقدس کی بعض پیشگوئیوں کے پیش نظر ایسا ہونا ضروری تھا سو ہو گیا۔یہاں تک تو ہم نے پیشگوئی کے متعلق بحث کی ہے اب اصل سوال کہ حضرت مرزا صاحب کی دعا اللہ تعالیٰ سب کو اپنی رضا کی راہوں {(432)