تفہیماتِ ربانیّہ — Page 433
میں ثابت قدم کرے“ کے مطابق وہ سب لوگ کیوں ثابت قدم نہ رہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مذہب اور اس کے ثمرات کے اظہار میں جبر کا دخل نہیں ، بلکہ زیادہ تر انسان کی ذاتی روحانیت اور مجاہدات کا اثر ہے۔اگر وہ شخص جس کے لئے کوئی نبی دعا کرتا ہے اپنے اندر جو ہر قابل نہیں رکھتا اور مذہب کی طرف مطلقا متوجہ نہیں تو وہ دعا کسی دوسرے رنگ میں پوری ہوگی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کے لئے دعائیں کیں مگر پھر بھی بعض مرتد ہو گئے۔حضور کے کاتب وحی عبد اللہ بن ابی سرح نے بھی ارتداد اختیار کیا۔پھر حضور کفار کے لئے دست بدعا ر ہے۔جب لوگ گھروں میں آرام کی نیند سوتے تھے تو تمام انبیاء کا سرا در غاروں میں اُن کی بھلائی و بہبودی کے لئے پروردگار عالم سے دعائیں مانگتا تھا۔وہ جب اس کو گالیاں دیتے تو وہ معصوم انکو دعا دیتا۔حضور کی شبانہ روز دعائیں رنگ لائیں اور کثیر حصہ ایمان لے آیا مگر جن پر شقاوت کی مہر لگ چکی تھی وہ آخر تک مخالفت پر ہی کمر بستہ رہے۔اس سوز و گداز کو ہی دیکھ کر خداوند جل وعلا نے فرمایا تھا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ که گویا تو اپنی جان کو اس غم میں ہلاک کر لیگا کہ یہ لوگ کیوں مسلمان نہیں ہوتے۔منافق نمازوں میں آتے تھے حضور علیہ الصلوۃ والسلام دعا اهدنا الصراط المستقیم اور دیگر ادعیہ میں اُن کو شریک کرتے تھے ،مگر وہ خالی کے خالی چلے جاتے تھے بلکہ ان کا پچھلا حال پہلے سے بھی بدتر ہوتا تھا۔حتی کہ ارحم الراحمین نے فرمایا إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ ط (سورہ تو بہ رکوع ۱۰) کہ اے نبی ! اگر تو اُن کے لئے ستر دفعہ بھی استغفار کرے تو بھی اللہ تعالیٰ ان کو نہیں بخشے گا۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں تاثیر نہیں تھی ؟ حضور کا استغفار بے اثر ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ ان لوگوں میں قوت جذب نہیں تھی۔پھر دیکھئے غزوہ تبوک سے پیچھے رہنے والے جو مومن تھے ان کی راست بیانی اور اعتراف جرم پر عتاب نازل ہوتا ہے مگر منافق آتے ہیں، اپنے عذرات پیش کرتے ہیں، حضور آن کو معاف کر دیتے ہیں بلکہ ان کے لئے استغفار کرتے ہیں۔(ملاحظہ ہو بخاری کتاب المغازی جلد ۳ صفحه (۶۴) کیا یہ استغفار ان کے لئے مفید ہوا ؟ ہر گز نہیں۔! 433