تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 38 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 38

کہ اُس نے الوہیت کا دعویٰ کیا اور وہ بھی اپنے تمام ساتھیوں پر ظاہر نہ کیا۔“ اس کا یہ دعویٰ ۱۵۹ ہجری میں ہوا۔( کامل جلد 4 صفحہ ۱۴) اور ۱۶۲ء میں زہر کھا کر خود کشی کرلی اور اس کا سر کاٹا گیا۔( تاریخ کامل جلد 4 صفحہ ۱۹) گو یا گل ۴ سال کی مہلت پائی۔اس قلیل عرصہ پر اور اس نامرادی کی موت پر بھی اگر کوئی شخص اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ میں پیش کرتا ہے تو اس کی عقل و دانش پر ماتم کرنا چاہئے۔ابوالخطاب اسدی مصنف عشرہ کاملہ اس مدعی سے متعلق بحوالہ ملل ونحل لکھتا ہے :- اس نے اپنے آپ کو حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ علیہ کے منتسبین میں مشہور کر کے لوگوں کا اعتقاد امام کے ساتھ خوب مستحکم کیا اور ان کے دلوں میں یہ بات جمائی کہ امام الزمان پہلے انبیاء ہوتے ہیں پھر الہ ہو جاتے ہیں۔“ (صفحہ ۲۷) اگر یہ بیان درست بھی تسلیم کر لیا جائے تب بھی اس کا اصل بحث سے کوئی علاقہ نہیں یہ تو ایک غالی اور مدعی الوہیت کا ذکر ہے ویس۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس کے ساتھیوں کے متعلق لکھا ہے :- ا وَعَبَدُوْا اَبَالْخَطَّابِ وَزَعَمُوا أَنَّهُ إِلَهُ وَخَرَجَ أَبُو الْخَطَّابِ عَلَى آبِي جَعْفَرِ الْمَنْصُورِ فَقَتَلَهُ عِيسَى بْنُ مُوسَى فِي سَبْخَةِ (منہاج السنہ جلد ۱ صفحه ۲۳۹) الْكُوفَةِ “ کہ وہ لوگ ابوالخطاب کی پرستش کرتے ہیں اور اس کو خدا قرار دیتے ہیں۔ابو خطاب نے ابو جعفر منصور کے خلاف چڑھائی کی اور اس کو فورا ہی عیسی بن موسیٰ نے قتل کر دیا۔پھر کتاب الفصل فی الملل والنحل میں لکھا ہے :- " وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِّنْهُمْ بِالْمِيَّةِ أَبِي الْخَطَّابِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ مَوْلى بَنِی آسید (جلد ۲ صفحه (۱۱۴) کہ شیعوں کے ایک گروہ نے ابو الخطاب کو اللہ قرار دیا ہے۔“ پس لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا کی بحث میں ابو الخطاب کو پیش کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔38 888