تفہیماتِ ربانیّہ — Page 37
66 " منہاج السنتہ میں لکھا ہے کہ یہ نبوت کا مدعی تھا اور کہتا تھا کہ مجھے اسم اعظم معلو (صفحه ۲۶ عشره) نشیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس کے متعلق لکھا ہے :- بَنَانُ بنُ سَمْعَانَ التَّيْمِيُّ الَّذِى تُنْسَبُ إِلَيْهِ الْبَيَانِيَّةُ مِنْ غَالِيَةِ الشَّيْعَةِ إِنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِنَّ اللهَ عَلَى صُورَةِ الْإِنْسَانِ وَإِنَّهُ يُمْلَكُ كُلَّةَ إِلَّا وَجْهَهُ وَادَّعَى بَنَانُ أَنَّهُ يَدُعُوا الزُّهْرَةَ فَتُجِيبُهُ وَأَنَّهُ يَفْعَلُ ذَاكَ بِالْاِسْمَ الْأَعْظَمِ فَقَتَلَهُ خَالِدُ بن عَبْدِ اللهِ الْقَسَرِى ، ی 66 کہ اس کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی شکل پر ہے اور سوائے چہرے کے وہ سارا ہلاک ہو جائے گا۔اور اُس کا دعوی تھا کہ وہ زہرہ کو بلاتا ہے تو وہ جواب دیتی ہے۔اس کو خالد بن عبد اللہ نے قتل کر دیا تھا۔“ گویا اس کی طرف نہ دعویٰ وحی منسوب ہے، نہ دعوی الہام اور نہ دعوی نبوت۔ہاں وہی مریداں مے پر انند والی بات ہے۔جبکہ لکھا ہے :- ،، حُكِى عَنْهُمْ أَنَّ كَثِيْر أَمِّنُهُمْ يُثْبِتُ نَبُوَّةَ بَنَانِ بْنِ سَمْعَانَ۔“ منہاج السنۃ جلد ا صفحه ۲۳۸) کہ اس کے مریدوں کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ ان میں کثیر حصہ بنان مذکور کی نبوت کا اقرار کرتا ہے۔گو یا اول تو اس مدعی کا اپنا دعویٰ نہیں، دوسرے وہ تو فورا قتل کر دیا گیا۔لہذا اس کا ذکر بھی اس جگہ ناموزوں ہے۔ہے۔متنع اس مدعی کے متعلق تو منشی صاحب کو خود اعتراف ہے کہ :۔”اس نے چند ما فوق العادت کرشمے دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف مائل و متوجہ کیا اور پھر الوہیت کا مدعی ہوا۔جب لوگ اس سے مانوس ہو گئے تو گل فرائض ترک کر دینے کا حکم دے دیا۔“ (صفحہ ۲۶) لیکن نہ معلوم کہ پھر اس مدعی الوہیت کو مدعیان نبوت کہ فہرست میں کیوں پیش کیا تاریخ کامل بن الاثیر میں صاف لکھا ہے :- " وَادَّعَى الْأُلُوهِيَّةَ وَلَمْ يُظْهِرُ ذَالِكَ إِلى جَمِيعِ صَحَابِهِ۔“ 37