تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 421 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 421

مکذبین کے دلوں پر خدا کی لعنت ہے۔خدا ان کو نہ قرآن کا نور دکھلائے گا نہ بالمقابل دعا کی استجابت جو اعلام قبل از وقت کے ساتھ ہو اور نہ امور غیبیہ پر اطلاع دے گا۔(ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۱۹ حاشیہ) ناظرین کرام ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان عبارتوں سے قبولیت دعا کی حقیقت، اس بارہ میں آیات قرآنی کی رہنمائی ، حضور کا مذہب ، اور پھر معجزہ استجابت دعا کا دعوی واضح طور پر ثابت ہیں۔حضرت کے نزدیک آیات قرآنی اور واقعات صحیحہ کی روشنی میں ہر دُعا کا منظور ہونا ضروری نہیں بلکہ بعض دعا ئیں ذات باری کا استغناء اور ولی و نبی کی عبودیت ثابت کرنے کی غرض سے بھی مسترد ہو جاتی ہیں۔ہاں نسبتا ان کی دعائیں بہت زیادہ مقبول ہوتی ہیں۔اور اگر دشمنوں سے مقابلہ ہو تو پھر تو صرف انہی کی دعاسنی جاتی ہے اور مخالفین کی دعا ان کے منہ پر ماری جاتی ہے۔(وَمَا دُعَاءُ الْكَفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلال ) ان کے استجابت دعا کے معجزہ کا کامل ظہور مقابلہ کے وقت ہی ہوتا ہے اور حضرت اقدس نے اسی صورت میں زبردست تحدی کی ہے اور مخالفین نے اس مقابلہ سے قطعی گریز کر کے حضرت کی صداقت پر ایک اور مُہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔اِن فنی ڈالكَ لآيَاتٍ لِأُولِي الْأَبْصَار - ہمارے محولہ بالا بیانات میں معترض پٹیالوی کی فصل ہشتم کا اصولی جواب موجود ہے۔وہ جو اعتراض حضرت اقدس کے ابطال کی خاطر کرتا ہے وہ حضور پر نہیں بلکہ نعوذ باللہ سب انبیاء پر عائد ہوتا ہے اور یہ کسی اعتراض کی بطالت کا زبر دست ثبوت ہے۔یہی وہ منہاج نبوت ہے جس کی رُو سے حضور کی صداقت پر کھنے کے لئے مخالفین کو چیلنج دیا جاتارہا اور اب بھی دیا جاتا ہے مگر وہ اس طرف رُخ نہیں کرتے۔حضور نے خوب فرمایا ہے انبیاء کے طور پر حجت ہوئی ان پر تمام * ان کے جو حملے ہیں ان میں سب نبی ہیں حصہ دار قبولیت دعا اور معترض پیٹیالوی معترض نے خود اپنی دوسری کتاب میں لکھا ہے :- " قرآن شریف میں ہمیں بتلایا گیا ہے کہ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ لیکن ہزاروں لاکھوں دعائیں جو قبول نہیں ہوتیں۔۔۔دعاؤں کی فلاسفی سے غالباً آپ بے خبر نہیں ہوں گے کیونکہ آپ 421۔