تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 422 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 422

قاضی ہیں۔مختصر یہ ہے کہ سوالوں اور دعاؤں کا قبول کرنا یا نہ کرنا مالک حقیقی اور حکیم لم یزلی کی حکمت و مصلحت پر مبنی ہے۔ڈاکٹر اور طبیب بیمار سے پوچھتے ہیں کچھ کھانے کو جی چاہتا ہے تو کھا لو۔بیمار کسی خاص شے کا نام لیتا ہے مگر وہ ڈاکٹر کی رائے میں اس کے لئے مضر ہے تو اس سے منع کر کے وہ دوسری غذا تجویز کرتے ہیں۔“ ( تحقیق لاثانی صفحہ ۱۷۱) جب حقیقت یہ ہے تو پھر اس فصل کے اعتراضات کی ضرورت کیا تھی ؟ اس کا تو صاف مطلب یہ ہے کہ آپ محض مخلوق خدا کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔اب ہم معترض پٹیالوی کے پیش کردہ واقعات پر نمبر وار بحث کرتے ہیں۔(۱) حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کے لئے دُعا مصنف عشرہ لکھتے ہیں :- وو مولوی عبد الکریم سیالکوٹی مرزائی مشن کے دست راست تھے۔جو بمرض کار بنکل پھوڑا بیمار ہوئے۔ان کے علاج کے لئے جیسا کہ چاہئے تھا سخت کوشش کی گئی اور علاج کے علاوہ دعا ئیں تو اتنی کی گئیں کہ غالباً مرزا صاحب نے کسی دوسرے امر کے لئے نہیں کی ہونگی۔“ (عشرہ صفحہ ۹۳) پھر لکھا ہے :- دو مگر افسوس کہ مرزا صاحب کی یہ شبانہ روز کی سب دعا ئیں رڈ ہو گئیں اور ۱۱ راکتو بر ۱۹۰۵ ء کو مولوی صاحب اس دنیا سے کوچ کر گئے۔(عشرہ صفحہ ۹۳) الجواب ا۔جیسا کہ ہم اُوپر ذکر کر آئے ہیں ہر دعا کا بصورت مطلوبہ منظور ہونا ضروری نہیں۔بے شک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی صاحب مرحوم کے لئے بہت دعائیں کیں لیکن مولوی صاحب کی وفات سے پیشتر اللہ تعالیٰ نے حضور کو ان کی موت کے قضاء مبرم ہونے کی اطلاع دیدی تھی اور حضور نے دعا کرنا بند کر دیا تھا۔حضور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کے ذکر میں تحریر فرماتے ہیں :- وو ان کے لئے میں نے بہت دُعا کی تھی۔مگر ایک بھی الہام ان کے لئے تسلی بخش نہ تھا بلکہ بار بار یہ الہام ہوتے رہے کہ کفن میں لپیٹا گیا، ۴۷ برس کی عمر ـ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - إِنَّ الْمَنَايَا لَا تَطِيشُ 422)