تفہیماتِ ربانیّہ — Page 403
فصل ہشتم دس مردُود دُعا ئیں" حد سے کیوں بڑھتے ہولو گو! کچھ کر خوف خدا کیا نہیں تم دیکھتے نصرت خدا کی بار بار ایک بد کردار کی تائید میں اتنے نشاں کیوں دکھاتا ہے وہ کیا ہے بدکنوں کا رشتہ دار ( حضرت مسیح موعود ) حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے فرمایا ہے درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔“ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے کامل اور مقبول بندے بھی چند علامات کے ذریعہ شناخت کئے جاتے ہیں جو اُن کے پھلوں کے طور پر ہوتی ہیں۔درخت کا بے ثمر رہ جانا ممکن ہے لیکن کسی مقبول بارگاہ ایزدی کا ان علامات خاصہ سے محروم رہ جانا محال ، ناممکن اور ممتنع ہے۔انہی علامات میں سے ایک بہت بڑی علامت جو اُن کے تعلق باللہ پر برہان قاطع کی حیثیت رکھتی ہے اُن کی دعاؤں کا قبول ہونا ہے۔بلاشبہ یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ بلحاظ رب اپنے ہر ایک بندہ کی اضطراری دعا سنتا ہے۔لیکن خدا کے پیاروں کو اس بارہ میں اس قدر کثرت حاصل ہوتی ہے جو مرتبۂ خارق عادت تک پہنچ جاتی ہے اور باعتبار کمیت و کیفیت ان کی دعاؤں کی قبولیت بے نظیر ہوتی ہے۔علاوہ ازیں ان کو اس باب میں ایک اور امتیاز بخشا جاتا ہے اور (403)