تفہیماتِ ربانیّہ — Page 401
آنکس که نداند و بداند که بداند در جهل مرکب ابدالدهر بماند ممکن ہے کہ آپ کو تنزل علینا ( ہم پر نازل کرے) کی ترکیب سے دھوکا لگا ہو اسلئے ہم بتائے دیتے ہیں کہ اس سے مراد براہِ راست الہاما نازل کرنا ہی نہیں ہوتا بلکہ ان کی طرف بالواسطہ بھیجنا یا لے آنا بھی ہوتا ہے۔آیات ذیل ملاحظہ ہوں :- (۱) وَانْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِكرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمُ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ( النحل رکوع ۶) (۲) قُلْ أَمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ عَلَى ابْراهِيمَ - الآية (آل عمران رکوع ۹) (۳) لَقَدْ انْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَاباً فِيهِ ذِكرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (الانبياء رکوع ۱) (٢) هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَبَ مُفَصَّلًا ( انعام رکوع ۱۴) (۵) قَالُوا نُؤْمِنَ مَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ (بقره رکوع ۱۱) بالآخر ہم دو تفاسیر سے اس حصہ آیت کے معنی بھی نقل کر دیتے ہیں تا غیر احمدی اصحاب بھی اس نئے ” کم علم مفتر کی داد دے سکیں۔(۱) تفسیر کبیر میں لکھا ہے :۔وو " قَالُوا وَلَنْ تُؤْمِنَ لِرُقِيْكَ آے لَنْ نُّؤْمِنَ لِأَجْلِ رُقِيْكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَاباً مِنَ السَّمَاءِ فِيْهِ تَصْدِيقُكَ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُمَيَّةَ لَنْ نُّؤْمِنَ حَتَّى تَضَعَ عَلَى السَّمَاءِ سُلَّماً ثُمَّ تَرْقُ فِيْهِ وَاَنَا انظُرُ حَتَّى تَأْتِيَهَا ثُمَّ تَأْتِي مَعَكَ بِصَنٍ مَنْقُورٍ مَعَهُ أَرْبَعَةٌ مِنَ الْمَلَئِكَةِ يَشْهَدُونَ لَكَ اَنَّ الْاَمْرَكَمَا تَقُولُ۔“ 6 ( تفسیر کبیر جلد ۵ صفحه ۶۶۰) گویا انہوں نے اس فقرہ میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ تو اپنے ساتھ آسمان پر سے ایک کتاب لاوے۔اور یہ سارا واقعہ ہمارے روبرو ہو۔تب ہم یقین کریں گے کہ تو خدا کا فرستادہ ہے اور مجھے رسول تسلیم کریں گے۔(401)