تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 375 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 375

محض بند اور مخفی تھی۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کھولا اور اس فتح کے اسباب میں یہ بھی تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ بیت اللہ سے رو کے گئے اور بظاہر یہ مسلمانوں کی ذلت اور شکست تھی۔“ ( زاد المعاد جلد اوّل صفحہ ۳۸۱) پیشگوئی حدیبیہ پر معترض پٹیالوی کے اعتراضا کے جوابات ران مختصر الفاظ میں واقعہ حدیبیہ کو ذکر کرنے کے بعد ہم معترض پٹیالوی کے ان اعتراضات کا جواب درج کرتے ہیں جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متذکرہ صدر بیان پر کئے ہیں اور وہ دو ہیں۔یہ تو ظاہر ہی ہے کہ حضرت کی عبارت میں پیشگوئی حدیبیہ کو بقید وقت تسلیم نہیں کیا گیا بلکہ اندازہ کردہ وقت کے لفظ ہیں۔یعنی رؤیا میں طواف بیت اللہ کے لئے کوئی وقت مقرر نہ تھا۔ہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قدر صحابہ کو ہمراہ لیکر روانہ ہونا بتاتا ہے کہ حضور کے خیال شریف میں اس رؤیا کے پورے ہونے کا وہی وقت تھا لیکن واقعات نے بتایا کہ اس سے بعد کا سال مراد تھا۔معترض پٹیالوی لکھتا ہے :۔" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خواب کا حوالہ دیکر عرض کیا کہ آپ نے تو فرمایا تھا ہم خانہ کعبہ میں جائیں گے اور طواف کریں گے۔اس پر حضرت رسالمت آب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ہم نے کہا تو تھا مگر کیا یہ کہا تھا کہ اسی سال ہم داخل ہوں گے۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ نہیں۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ خانہ کعبہ میں داخل ہو گے اور طواف کرو گے۔یعنی ہمارے خواب کا ظہور کسی وقت ضرور ہوگا۔(عشرہ صفحہ ۸۴) ان الفاظ کا صاف مطلب یہ ہے کہ طواف کرنے کی رؤیا بجا ہے مگر اس میں تعیین وقت نہیں تھی۔یہ تعین ہمارا اپنا اندازہ ہے۔اب غور فرمائیں کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عبارت بالا میں اندازہ کردہ وقت کا لفظ لکھ دیا تو اس میں کونسی خرابی واقع ہوگئی جو تم اس کو جھوٹ قرار دیتے ہو؟ یہ تو گویا بعینہ وہی بات ہوئی جو حضور نے کھجوروں والی جگہ (375