تفہیماتِ ربانیّہ — Page 369
الجواب منشی صاحب ! جب شخص دو ، الہامات کی زبان الگ ، معاملہ علیحدہ علیحدہ تو پھر وہی الفاظ کیسے کہے جاسکتے تھے ؟ کچھ تو عقل سے بھی کام لیا کریں۔مشابہت نفس ایقاع میں ہے نہ ہر ایک جزء میں۔اگر زید کو شیر کہا جائے تو اس کے لمبے ناخن اور دم نہیں ہوا کرتی۔بلکہ مماثلت صرف جرات و بہادری میں ہوا کرتی ہے۔ہاں اگر آپ کا مطلب یہ ہے کہ اس جگہ تو شرط کے ساتھ سخت تاکید بھی ہے ، تو پڑھ لیجئے وہاں بھی تاکیدی الفاظ موجود ہیں۔انہی مرْسِلٌ إِلَيْهِمُ الْعَذَابَ فِي يَوْمٍ كَذَا وَكَذَا ( فتح البیان ) ان حرف تاکید ہے جملہ اسمیہ تاکید مزید ہے۔فبطل ما ادعیتم۔(۳) ”مرزا صاحب کو الہام ہوا تھا۔الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِنَ المُعْتَرِينَ حضرت یونس سے ایسا ارشاد نہیں ہوا۔(عشرہ صفحہ ۸۲) الجواب۔اس کا جواب او پر گزرچکا ہے۔اگر وہ پیشگوئی الحق من ربہ نہ تھی تو محمدی کیسے ہو سکتی تھی ؟ یونس علیہ السلام کا عمل ( قوم کو چھوڑ کر باہر چلے جانا اور منتظر عذاب رہنا ) ان کے یقین کا گواہ ہے۔(۴) مرزا صاحب کے الہام میں لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ - حضرت یونس علیہ السلام کو اس معاملہ میں اس طرح کہنا کسی ضعیف روایت میں بھی مذکور نہیں۔(عشره صفحه ۸۲) الجواب مخالف حالات کے سامنے ہوتے ہوئے زیادہ تاکید کی ضرورت ہو ا کرتی ہے۔حضرت یونس کے لئے ایسی کوئی ضرورت نہ تھی۔بھلا اتنا ہی غور کر لیتے کہ قرآن مجید میں لا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ الہ آیا ہے۔الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ وارد ہوا ہے اور اس قسم کے الہامات حضرت یونس کو نہیں ہوئے تو کیا ان کی وحی اور آنحضرت کی وحی میں بلحاظ نفس الہام فرق ہو گیا؟ ہر گز نہیں۔بہر حال خدا کا الہام یقینی ہوتا ہے خواہ وہ ابراہیم پر نازل ہو یا موسی پر ، یونس پر اترے یا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کیا جائے فرق کمی بیشی یا اکملیت وغیرہ کا ہے۔نفس یقین میں سب برابر ہیں۔اسی مفہوم کو حضرت مسیح موعود نے اپنے اس شعر میں ادا فرمایا ہے - ا نقل مطابق اصل یا الہام بحیثیت مجموعی نفس پیشگوئی کے متعلق ہے محض نکاح سے مخصوص کرنامخانفین کی زیادتی ہے۔(مؤلف) (369)