تفہیماتِ ربانیّہ — Page 365
کہا کہ اے خداوند میں تجھ سے عرض کرتا ہوں کیا یہ میرا مقولہ نہ تھا۔جس وقت میں ہنوز اپنے وطن میں تھا۔اس لئے میں آگے سے ترسیس کو بھا گا۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ تو کریم اور رحیم خدا ہے جو غصہ کرنے میں دھیما ہے اور نہایت مہربان ہے اور پچھتا کے آپ کو بدی سے باز رکھتا ہے تب خداوند نے فرمایا کہ مجھے اس رینڈی کے درخت پر رحم آیا جس کے لئے تو نے کچھ محنت نہ کی اور نہ تو نے اگا یا۔جو ایک ہی رات میں اُگا اور ایک ہی رات میں سوکھ گیا۔اور کیا مجھے لازم نہ تھا کہ میں اتنے بڑے شہر نینوا پر جس میں ایک لاکھ بیس ہزار آدمیوں سے زیادہ ہیں جو اپنے دہنے بائیں ہاتھ کے درمیان امتیاز نہیں کر سکتے۔اور مویشی بھی بہت ہیں شفقت نہ کروں؟ (یوناہ نبی کی کتاب باب ۳-۴) ناظرین کرام! قرآن مجید کا بیان ، احادیث و تفاسیر کی روایات ، انجیل اور تورات کا اقتباس آپ کے سامنے ہے۔برائے خدا غور فرمائیں کہ اس قدر کھلی شہادات کے باوجود حضرت اقدس کے فرمودہ کو کذب بیانی قرار دینا کمال بے شرمی نہیں تو اور کیا ہے؟ بندگانِ خدا موت کو یاد کرو اور شدید البطش خدا کی گرفت سے ڈر جاؤ۔اس قدر مغالطہ دہی ، اتنا افتراء اور اتنی غلط بیانی ؟ سع خدا سے کچھ ڈرو یا روکہ وہ بینا خدا ہے آسمان کا فیصلہ آپ پڑھ چکے۔چالیس دن کا حوالہ بائیل اور تفاسیر میں ملاحظہ کر چکے حضرت یونس کی ناراضگی پر قرآنی ارشاد تلاوت کر چکے۔کیا ان سب کے بعد بھی کسی دوسری شہادت کی ضرورت ہے؟ ہرگز نہیں۔یادر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا استدلال محض نفس پیشگوئی اور تاخیر عذاب سے ہے۔حضرت یونس نے موقت عذاب کی پیشگوئی کی اور خود قوم سے علیحدہ ہو گئے مگر ے وہ چالیس دن ہوں یا کم و بیش لیکن بائیبل اور تفاسیر سے چالیس دن کا تعین ثابت ہے۔(مؤلف) (365)