تفہیماتِ ربانیّہ — Page 363
ترجمہ: حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ تمہاری بذت چالیس دن مقرر ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے ہلاکت کے علامات دیکھے تو تجھ پر ایمان لے آئیں گے۔جب ۳۵ دن گزر گئے تو آسمان پر سخت خوفناک سیاہ دھواں دھار بادل آیا اور اس نے ان کے شہر کو ڈھانپ لیا اور ان کی چھتوں پر چھا گیا۔تب انہوں نے ٹاٹ پہنے اور عورتوں بچوں سمیت میدان میں نکلے۔اور اُنہوں نے ایمان و توبہ کا اظہار کیا اور زاری کی۔تب اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور اس عذاب کو ٹال دیا۔یہ واقعہ بروز جمعہ عاشوراء کے دن ہوا۔“ ان روایات سے ظاہر ہے کہ حضرت یونس کو وحی ہوئی اور ان کی قوم پر مقررہ دن یا چالیس دن تک عذاب آنے کی پیشگوئی کی گئی۔حضرت یونس نے اس پیشگوئی کو اپنی قوم کے سامنے نہایت تحدی سے پیش کیا لیکن ان لوگوں کی تو بہ اور انابت کے باعث وہ عذاب دُور کر دیا گیا اور وہ لوگ عذاب سے بچ گئے۔جس پر حضرت یونس ناراض ہوئے اور بھاگ نکلے اور کہالا ارجع اليهم كذاباً ابداً۔میں اب جھوٹا ہو کر ان میں نہ جاؤں گا۔افسوس کہ اس قدر واضح روایت کی موجودگی میں کہا جاتا ہے کہ اس واقعہ کا کہیں ذکر نہیں۔اُف ! اتنی غلط بیانی ؟ انجیل اور حضرت یونس کا واقعہ انا جیل میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح نے فرمایا :- (1) اس زمانے کے برے اور زنا کار لوگ نشان طلب کرتے ہیں مگر یونس نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا۔کیونکہ جیسے یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔نینوا کے لوگ اس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ عدالت کے دن کھڑے ہوکر انہیں مجرم ٹھہرائیں گے کیونکہ انہوں نے یونس کی منادی پر تو بہ کر لی۔اور دیکھو یہاں وہ ہے جو یونس سے بھی بڑا ہے۔“ (متی ۱۲/۲۱۳۹) (۲) ” نینوا کے لوگ اس زمانے کے لوگوں کے ساتھ عدالت کے دن کھڑے ہو کر انہیں مجرم ٹھہرائیں گے۔کیونکہ انہوں نے یونس کی منادی پر تو بہ کر لی۔اور (363)