تفہیماتِ ربانیّہ — Page 331
دے سکتے اور نہ اس کی اجازت ہے اسلئے اُفَوضُ أَمْرِئُ إِلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرًا بِالْعِبَادِ یادر ہے کہ یہ وہی گندہ طریق ہے جس کو اختیار کر کے آریہ اور عیسائی سید نا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر ناپاک آوازے کستے ہیں اور صدیوں سے قلوب مومنین کو مجروح کرتے رہے ہیں۔ہمارے مخالف اس وطیرہ کو اختیار کرتے ہوئے انہی لوگوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سمجھ دے اور ان کی رہنمائی فرمائے۔آمین۔مصنف عشرہ کاملہ نے اس فصل میں يُدْفَنُ مَعِی فی قبری وغیرہ امور کا بھی ذکر کیا ہے۔ان امور کا مفصل جواب فصل یاز دہم میں موجود ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ناظرین کرام ! آپ نے معترض پٹیالوی کے پیش کردہ افتر اؤں کو پڑھا اور ان کے جوابات کو ملاحظہ فرمایا۔مخالفین سے ایسی ہی تو قع ہوا کرتی ہے۔کیا کوئی ایک بھی نبی ایسا گزرا ہے جس کو زمینی لوگوں نے مفتری قرار نہ دیا ہو۔ہاں نبی چونکہ آسمان سے آتا ہے اسلئے جب دنیا کے لوگ اس کو مفتری قرار دیتے ہیں تب رب السموات اس کی نصرت کے لئے اُترتا ہے اور اسکے مخالف انسانوں کو ان کے منصوبوں، کوششوں اور ارادوں میں نا کام اور خائب و خاسر کرتا ہے۔اور یہ اس نبی کی صداقت کا ایک زبر دست ثبوت ہوتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ ایسا نہ کرے تو دنیا میں اندھیر پڑ جائے۔اس لئے ایک طرف تو اس نے یہ قانون بنادیا کہ کسی مفتری اور جھوٹے مدعی رسالت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کے مطابق تئیس سال کی مہلت ہر گز نہیں دوں گا۔بلکہ ایسے دعویدار کو اس سے پیشتر ہی ہلاک و برباد کر دوں گا۔نیز جھوٹوں کی تائید ونصرت اور قبولیت نہ ہونے دونگا۔ازل سے ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور تاقیامت ایسا ہی ہوتا رہے گا۔حضرت امام ابن القیم کے یہ الفاظ کتنے پیارے ہیں جو انہوں نے کا ذب مدعیان نبوت کی حالت لم يتم له امره ولم تطل مدته “ کے فقرہ میں ذکر کرنے کے بعد لکھے ہیں۔فرمایا :- " هَذِهِ سُنَتُهُ فِي عِبَادِهِ مُنْذُ قَامَتِ الدُّنْيَا وَإِلَى أَنْ يَرِثَ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا۔“ ( زاد المعاد جلد اول صفحہ ۵۰۰) یعنی از ازل تا ابد وہ ان کو ناکام بناتا آیا ہے اور ناکام بنا تا رہے گا۔ان کی باتوں کو کبھی فروغ حاصل نہیں ہوتا۔مؤلف عشرہ نے بھی لکھا ہے :- (331