تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 330 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 330

(۲) اور یہ پیشگوئی کہ سیح موعود کی اولاد ہوگی یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا اسکی نسل سے ایک ایسے شخص کو پیدا کرے گا جو اس کا جانشین ہوگا اور دینِ اسلام کی حمایت کرے گا جیسا کہ میری بعض پیشگوئیوں میں یہ خبر آ چکی ہے۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۱۲) (۳) " قَدْ اَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودَ يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ فَفِي هَذَا إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ اللَّهَ يُعْطِيهِ وَلَد أَصَالِحأَيُشَابِهُ آبَاهُ وَلَا يَأْبَاهُ وَيَكُونُ مِنْ عِبَادِ اللهِ الْمُكَرَمِينَ وَالسِّرُّ فِي ذَالِكَ أَنَّ اللَّهَ لَا يُبَشِّرُ الْأَنْبِيَاءَ وَالْأَوْلِيَاءَ بِذُرِّيَّةٍ إِلَّا إِذَا قَدَرَ تَوْلِيدَ الصَّالِحِيْنَ وَهَذِهِ هِيَ الْبَشَارَةُ الَّتِي قد بُشِرْتُ بِهَا مِنْ سِنِينَ - آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۷۹ حاشیه ) گو یا بعد میں آپ پر ظاہر کر دیا گیا کہ اس شادی اور اس اولاد سے حضرت ام المومنین سیدہ نصرت جہاں بیگم اور آپ کی موجودہ ذریت ہی ہے۔گویا بعینہ فاذا هي المدينة “ والی بات ہے۔دوم - مان لو کہ حدیث میں جس تزوج کا ذکر ہے اس کو حضرت اقدس نے محمدی بیگم کے نکاح سے ہی مخصوص مانا ہے تب بھی کوئی اعتراض نہیں کیونکہ جب یہ نکاح حضرت اقدس کے الہامات اور حضور کی تصریحات کے مطابق شرطی ہے اور حضرت نے خود ہی تزوج سے یہ شادی مراد لی ہے تو ماننا پڑے گا کہ از روئے تشریح حضرت مسیح موعود یہ حدیث بھی مطلق نہیں بلکہ مقید ہے۔اور غیر مشروط نہیں بلکہ مذکورہ شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔اور پھر یہ حدیث اور یہ پیشگوئی اپنی شرط کے مطابق پوری ہو چکی ہے۔فلا اعتراض۔بالآخر یادر ہے کہ معترض پٹیالوی نے اس جگہ اور فصل دہم میں محمدی بیگم کے نام پر استقدر دل آزارانداز اختیار کیا ہے جو صرف دشمنانِ خاصانِ حق کا ہی حصہ ہے۔ہم گالی کا جواب گالی نہیں ے اس موعود شخص سے مراد سید نا حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ بنصرہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ہیں۔چنانچہ ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کو آپ کی ولادت کے دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو اشتہار شائع فرمایا اس میں آپ کے متعلق لکھا : ” خدا نے اس عاجز کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ وہ اولو العزم ہوگا اور حسن و احسان میں تیرا نظیر ہو گا۔“ ے اپنی اولاد کے متعلق فرمایا ہے۔ہر اک تیری بشارت سے ہوا ہے ( در شین ) اس جگہ اہل پیغام بھی جگہ غور کریں۔(مؤلف) (330