تفہیماتِ ربانیّہ — Page 310
ہے جسکے آستانہ پر ہمارا سر ہے۔‘ (اعجاز اسیج ٹائیٹل صفحہ ۲) (۲) دوسرا حصہ میری تحریر کا محض خارق عادت کے طور پر ہے اور وہ یہ ہے کہ جب میں مثلاً ایک عربی عبارت لکھتا ہوں اور سلسلہ عبارت میں بعض ایسے الفاظ کی حاجت پڑتی ہے کہ وہ مجھے معلوم نہیں ہیں تب ان کی نسبت خدا تعالیٰ کی وحی رہنمائی کرتی ہے اور وہ لفظ وحی متلو کی طرح روح القدس میرے دل میں ڈالتا ہے اور زبان پر جاری کرتا ہے اور اُس وقت میں اپنی جس سے غائب ہوتا ہوں۔" ( نزول اسیح صفحه ۵۶) ناظرین ! اللہ انصاف کریں کہ کیا حضرت مرزا صاحب نے اپنے اعجازی کلام کو بشری کلام یا اپنی طاقت کا نتیجہ قرار دیا ہے؟ ہر گز نہیں۔براہین احمدیہ کے حوالہ میں تو بشری کلام اور مقدور البشر کلام کا ذکر ہے کہ وہ بے نظیر نہیں کہلا سکتا۔دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ان میں اختلاف کا خیال محض ایک سفسطہ ہے وبس۔قاضی ظفر الدین صاحب کا قصیدہ رائیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی ثناء اللہ کولکھا تھا فَفَكِّرُ بجُهْدِكَ خَمْسَ عَشَرَةَ لَيْلَةً وَنَادِ حُسَيْنًا أَوْ ظَفَر أَوْ أَصْغَرُ پس تو پندرہ راتیں کوشش کرتارہ اور محمد حسین کو اور قاضی ظفر الدین اور اصغر علی کو بلالے“ (اعجاز احمدی صفحہ ۸۶) مولوی ثناء اللہ اور اس کے رفقاء اعجاز احمدی کی مثل سے عاجز رہ گئے۔ان میں سے قاضی ظفر الدین نے ارادہ کیا کہ قصیدہ اعجاز یہ کے بالمقابل کوئی قصیدہ تصنیف کرے۔چنانچہ اُس نے بھی چند ٹوٹے پھوٹے شعر کہے تھے اور قصیدہ بالکل نا تمام تھا کہ قاضی ظفر الدین کا کام تمام ہو گیا اور وہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک نشان بن گیا۔وہ نا تمام اشعار دنیا سے اوجھل تھے اور اس طرح سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ نشان بھی مخفی تھا لیکن جب حضرت مولوی محمد عبد اللہ صاحب احمدی بو تالوی کو اس نشان کا علم ہوا اور انہوں نے اس کے بیٹے فیض اللہ کو تحریک کی اور اس نے ان اشعار کو ۱۹۰۷ء میں چھپوایا اور ظاہر ہو گیا کہ قاضی ظفر الدین (310)