تفہیماتِ ربانیّہ — Page 307
اس طریق سے عوام بلکہ خواص پر بھی اس معجزہ کو مشتبہ نہ کر دیں۔پس ایک کافی عرصہ جواب کے لئے مقرر کر دیا گیا۔تا وہ پوری جد و جہد کرلیں اور مدت گزر جانے کے بعد دنیا پر ظاہر ہو جائے کہ وہ عاجز رہ گئے اور خدا کا کلام غالب آ گیا۔انجام خصم واضح ہو گیا۔مختصر یوں کہ نشان اعجاز کو۔۔۔۔۔اپنے رنگ میں زیادہ نمایاں اور مؤثر بنانے کے لئے ایسا کرنا ضروری تھا۔دوم۔ان کتابوں کی مثل لانے پر انعامی رقوم مقرر کی گئی تھیں مثلاً اعجاز احمدی پر دس ہزار روپیہ انعام مقرر تھا۔اب اگر تعیین مدت نہ ہوتی تو انعام کا تصفیہ کرنا مشکل ہوجاتا۔انسان کی زندگی میں عسر و ئیسر تنگی و خوشحالی جز ولا ینفک ہیں اور موت کا بھی کوئی وقت مقرر نہیں۔اگر مخالف بے موقع مطالبہ کرتے۔یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد شور مچاتے کہ ہم اب مثل بناتے ہیں تو خواہ مخواہ جھگڑا پیدا ہوتا۔ان تمام خرخشوں سے بچنے اور انعامی رقم کے لئے قطعی فیصلہ کی خاطر ضروری تھا کہ مناسب مدت کی تعیین کی جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔کیا دنیا میں کوئی بھی انعامی کتاب ایسی ہے جس کی مثل یا جواب کے لئے مہلت کی تحدید نہ ہو۔بالخصوص جبکہ مصنف کی نیت واقعی انعام دینے کی ہو، ہر گز نہیں۔سوم - تا بد باطن دشمن عوام کو مشتعل کرنے کے لئے یہ نہ کہہ سکیں کہ دیکھو یہ تو قرآن مجید کی تحدی کی مثل قائم کر دی ہے۔یہ عام طریق ہے کہ مناظرہ میں جب کوئی مناظر عاجز آجاتا ہے تو وہ لوگوں کے جذبات کا جائزہ لے کر ان کو اشتعال دلا دیتا ہے تا کہ وہ دلائل پر ٹھنڈے دل سے غور نہ کرسکیں۔میں نے بار ہا غیر احمدیوں کے بعض بڑے مولویوں کو اسی طریق کا پابند پایا ہے۔خاص اِس موقعہ پر بھی دیکھ لیجئے۔حالانکہ تحدید زمانی موجود ہے لیکن پھر بھی معترض پٹیالوی نے پورا ایک صفحہ محض یہ شور مچانے میں خرچ کیا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے اس فعل ( اعجازی کلام) سے قرآن مجید کے اعجاز کو باطل کرنا چاہا ہے۔العیاذ باللہ۔اس قسم کے وساوس اور غلط بیانیوں سے بچانے کی خاطر میعاد کا تعین ضروری تھا۔تا واضح ہو جاتا کہ قرآن مجید کا اعجاز بہر حال اعلیٰ وافضل ہے کیونکہ اس کی مثل کی تحدی تا قیامت قائم ہے۔اور اعجاز احمدی وغیرہ کتب کی نظیر لانے کا چیلنج ایک محدود عرصہ کے لئے تھا۔اور ضرور تھا کہ یہ فرق کیا جاتا۔کیونکہ قرآن مجید الحمد سے لیکر لے یعنی جس کی مثل یا جواب پر انعام بصورت رو پی ونقدی مقرر ہو۔منہ (307)