تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 303 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 303

میں مولوی ثناء اللہ امرتسری اور مولوی محمدعلی مونگیری کی پیش کردہ اغلاط پر نہایت عالمانہ اور سیر گن بحث کی گئی ہے۔اعجاز احمدی اور اچھی خاصی مدت ،، مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اپنے عجز کو چھپانے کے لئے بطور افتراء لکھا تھا کہ :- یہ کیا بات ہے کہ آپ گھر سے ساراز در خرچ کر کے ایک مضمون اچھی خاصی مدت میں لکھیں جس کا مخاطب کو علم نہیں مگر مخاطب کو محدود وقت کا پابند کر یں۔“ ( الہامات صفحہ ۹۶) معترض پٹیالوی نے بھی لکھی پر کبھی مارنے کی خاطر اسی عبارت کو نقل کر دیا۔(عشرہ صفحہ ۶۷) الجواب - ناظرین! آپ خدارا ایک مرتبہ رسالہ اعجاز احمدی کا مطالعہ کر لیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اگر چہ صداقت کے خلاف ہزاروں عذرات اور اعتراضات پیش کئے جاتے ہیں۔مگر اس اعتراض سے زیادہ جھوٹا اور دجل و فریب سے لبریز اور کیا الزام ہوگا۔۲۹-۳۰/ اکتوبر ۱۹۰۲ ء موضع مد میں مباحثہ ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس مباحثہ کے اعتراضات کا جواب اور دیگر حالات مناظرہ اُردو مضمون اور عربی قصیدہ میں قلمبند فرماتے ہیں اور ۱۶ نومبر ۱۹۰۲ء کو وہ بصورت کتاب امرتسر مولوی ثناء اللہ کے ہاتھوں میں پہنچ جاتا ہے۔مگر امرتسری اور پٹیالوی معترض کہتے ہیں کہ اعجاز احمدی اچھی خاصی مدت میں اور سارا زور لگا کر لکھی گئی ہے سچ ہے ع۔۔۔ہر چہ خواہی کن اگر حضرت مرزا صاحب نے اس وقت سے ہی ان واقعات کو رقم فرما نا شروع کر دیا تھا جبکہ وہ منصہ شہود پر نہ آئے تھے تو یہ اور بھی معجزہ ہے۔اب دو ہی صورتیں ہیں (۱) یا یہ تسلیم کرو کہ رساله اعجاز احمدی یکم نومبر ۱۹۰۲ء کے بعد تصنیف ہوا اور (۲) یا پھر یہ مانو کہ حضرت مسیح موعود نے علم غیب کے ذریعہ قبل از وقت ہو نیوالے واقعات کو حیطہ تحریر میں منضبط کر دیا۔بہر صورت اعجاز احمد کی ایک بہت بڑا نشان ماننا پڑے گا لے کیا سارا زور لگا کر مجموعہ اغلاط ہی شائع کرنا تھا؟ اور اگر ایسا ہی تھا تو پھر تم " خاصی مدت کا کیوں واویلا مچارہے ہو کیا پچھیں دن میں تم ایسا رسالہ یعنی بزعم خود اغلاط کا مرقع بھی شائع نہیں کر سکتے تھے؟ (مؤلف) ۲۵ (303