تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 300 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 300

که میعاد کے اندر جواب نہ ملا گو یا مخالف اعجاز احمدی کا مثل نہ لا سکے لیکن وہ اعجاز کے غل پر بہت مبہوت ہے۔مگر اسے چاہئے کہ پہلے اعجاز احمدی میں مندرجہ تحر ی اور انعامی رقم کا مطالعہ کرے اور پھر بتائے کہ کیا ہمارا حق نہ تھا کہ اعجاز کا نعرہ بلند کرتے اس میں کونسی خلاف واقعہ یا غلط بات تھی؟ پٹیالوی صاحب کا منشاء اس عبارت سے یہ ہے کہ ہم اگر ذرا توجہ کرتے اور ” در دسر اختیار کرتے تو اعجاز احمدی کی مثل بنا سکتے تھے۔معترض کا یہ دعوی کوئی نیا دعویٰ نہیں بلکہ ہمیشہ ہی دشمنان حق عاجز آکر یہ کہا کرتے ہیں۔قرآن مجید فرماتا ہے وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ايْتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَذَا إِنْ هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (الانفال رکوع ۲) کہ جب ان لوگوں پر ہماری آیات یعنی قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں بھئی ٹن لیا تم کیا اعجاز، اعجاز کا غل مچارہے ہو۔اگر ہم چاہیں اور یہ در دسر اختیار کریں تو اس کی مثل بنا سکتے ہیں۔یہ ہے کیا صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں وبس۔بھلا اگر ہم مثل بنا بھی لاتے تو کیا تم اپنی لن ترانیوں سے باز آجاؤ گے؟ جناب من ! اگر مثل بنا لاتے تو پھر دلن ترانیوں کا ذکر کرنا سزاوار بھی ہوتا مگر اب تو صرف منہ چڑا رہے ہو۔غرض یہ جواب بھی کوئی نرالا نہیں بلکہ کفار مکہ کی نقل ہے تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ۔اس جگہ مناسب ہے کہ ہم ایسا جواب دینے والوں کے متعلق مولوی شبیر احمد صاحب دیو بندی کے الفاظ درج کر دیں۔وہ لکھتے ہیں کہ :- کبھی کبھی زبان سے یہ بھی کہتے تھے لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَذَا یعنی نہ ہم نے چاہا نہ کیا۔مگر کیوں نہ چاہا ؟ اس لئے کہ اپنی عزت اور آبرو اور قرآن ( موجودہ بحث میں اعجاز احمدی - مؤلف ) کے سامنے اپنے عجز اور کمزوری کی پردہ پوشی صرف اسی صورت میں دیکھی۔اگر وہ ( یا یہ۔ناقل ) جھوٹ موٹ کہدیتے کہ یہ ہمارا کلام قرآن جیسا ہے تو کہنے والے کی زبان دانی اور فصاحت اور تصدیق کرنے والوں کی سخن شناسی و سخن فہمی پر ایسا سخت بد نما داغ لگتا کہ وہ کسی بزم سخن اور محفلِ ادب میں منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے اور دنیا ان کا تمسخر اڑاتی ، اس وجہ سے یہ ہمت کسی نے نہیں کی۔بلکہ جب مضطر ہوئے تو یوں (300