تفہیماتِ ربانیّہ — Page 290
منع مانع من السماء ہو چکا تھا جو کتاب کی اشاعت کی تاریخ ۲۳ فروری ۱۹۰ء کو پورا ہو گیا۔حقیقۃ الوحی کا بیان ہے کہ جب پیر گولڑوی نے تفسیر لکھنے کا ارادہ كيا تب الهام منع مانع من السماء ہوا۔“ (عشرہ صفحہ ۶۶) الجواب - در حقیقت الهام منعۂ مانع من السماء‘دومرتبہ ہوا۔ایک اس " وقت جبکہ حضور رسالہ "اعجاز مسیح ، رقم فرمارہے تھے۔جیسا کہ آپ نے تحریر فرمایا ہے:۔إِنِّي أُرِيتُ مُبَشِّرَةٌ فِي لَيْلَةِ القَلْثَاءِ إِذْ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَهُ مُعْجِزَةً لِلْعُلَمَاءِ وَدَعَوْتُ أَنْ لَا يَقْدِرَ عَلَى مِثْلِهِ أَحَدٌ مِنَ الْأَدَبَاءِ وَلَا يُعْطَى لَهُمْ قُدْرَةٌ عَلَى الْإِنْشَاءِ فَأَجِيْبَ دُعَائِي فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنْ حَضْرَةِ الْكِبْرِيَاءِ وَبَشَّرَنِي رَنِي وَقَالَ مَنَعَهُ مَانِعُ مَنَ السَّمَاءِ فَفَهِمْتُ أَنَّهُ يُشِيرُ إِلَى أَنَّ الْعِدَا لَا يَقْدِرُونَ عَلَيْهِ وَلَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَا كَصِفَتَيْهِ۔“ ترجمہ : میں نے سہ شنبہ کی شب ایک خواب دیکھی۔میں نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی تھی کہ وہ اس رسالہ کو علماء کے لئے معجزہ بنائے۔نیز یہ بھی کہ کوئی ادیب اس کی مثل پر قادر نہ ہو اور نہ ان کو انشاء پردازی کی قدرت دی جائے۔چنانچہ اس مبارک رات میں بارگاہ ایزدی میں میری دعا قبول کی گئی اور میرے رب نے مجھے بشارت دیکر فرمایا کہ ہر ادیب کو آسمان سے روکنے والے نے روک دیا ہے۔پس میں سمجھ گیا کہ اس کا اشارہ اس طرف ہے کہ دشمن اس کی مثل پر قادر نہ ہوں گے اور بہر دو صفات (عربیت و تفسیر ) اس کے مقابلہ سے عاجز ہوں گے۔( اعجاز اسیح صفحه ۶۶) اس موقع پر اس الہام کا اشارہ تمام مخالفین کی طرف ہے کہ وہ اس مدت مقررہ میں سورۃ فاتحہ کی عربی تفسیر نہ لکھ سکے۔اس الہام نے پیر مہر علی شاہ صاحب کے حق میں خصوصاً اور عام مخالفین کے حق میں عموماً فیصلہ کر دیا تھا کہ وہ اس ستر دن والے مقابلہ میں عاجز رہیں گے چنانچہ ایسا ہی (290)