تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 286 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 286

فصاحت و بلاغت کے ساتھ کوئی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عربی مولوی پیش نہیں کر سکے گا۔تب ایک تصنیف ہے جو ستر دن کے اندر شخص پیر مہرعلی نام ساکن گولڑہ نے یہ باوجود یکہ چار جزو کا وعدہ تھا ساڑھے لاف و گزاف مشہور کی کہ گویا وہ ایسا بارہ جزو پر شائع ہوگئی اور ہی رسالہ لکھ کر دکھلائے گا۔اس وقت ۲۳ فروری ۱۹۰۱ ء کو پیر گولڑوی کو خدا کی طرف سے مجھے یہ الہام ہوا بصیغہ رجسٹری بھیجی گئی اور بالمقابل منعه مانع من السماء يعنى پیر صاحب کی طرف سے ستر دن ایک مانع نے آسمان سے اس کو نظیر کے اندر چار جزو اور ساڑھے بارہ پیش کرنے سے منع کر دیا۔تب وہ جز و تو کجا ایک آدھ صفحہ بھی اعجازی ایسا ساکت اور لاجواب ہو گیا کہ عربی تفسیر کا شائع نہیں ہوا اور اس رچہ عوام الناس کی طرح اُردو طرح پر الہام مَنَعَهُ مانع مِن السّماءِ میں بگو اس کرتا رہا مگر عربی رسالہ کی پورا ہو گیا۔پیر گولڑوی کی علمیت ،عربی نظیر آج تک نہ لکھ سکا۔“ دانی ، اور قرآن دانی کا راز طشت از (صفحه ۳۷۹ حقیقۃ الوحی) بام ہو گیا۔(احکم ۷ ارجنوری ۱۹۰۴ ) حضرات قارئین ! ہر دو اقتباس آپ کے سامنے ہیں۔ان میں کونسا ”بھاری اختلاف ہے جس پر معترض بیٹیالوی اس قدر اترا رہا ہے۔اس کا پیش کردہ ”بھاری اختلاف پڑھ کر بے ساختہ کہنا پڑتا ہے آپ نے لکھا ہے :- بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا ” الف - الحکم کہتا ہے کہ اس رسالہ کا مخاطب پیر گولڑوی تھا۔مرزا صاحب کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر میں نے شائع کر دیا تھا کہ کوئی مولوی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکے گا۔یہ کوئی مولوی والی شرط کہاں سے حقیقۃ الوحی میں آگئی۔“ الجواب۔بے شک تفسیر نویسی کے مقابلہ میں اصل مخاطب پیر گولڑوی صاحب تھے۔(286