تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 277 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 277

دو چار عرب کے ادیب بھی طلب کرلیں۔فریقین کی تفسیر چار جزو سے کم نہیں ہونی چاہئے اور اگر میعاد مجو زہ تک یعنی ۱۵ر دسمبر ۱۹۰۰ بد سے ۲۵ فروری ۱۹۰۱ بو تک جو ستر دن ہیں فریقین میں سے کوئی فریق تفسیر فاتحہ چھاپ کر شائع نہ کرے اور یہ دن گزر جائیں تو وہ جھوٹا سمجھا جائے گا اور اس کے کاذب ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہے گی۔" اشتہار بعنوان پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑ وی مطبوعہ انوار احمدی لاہور مورخہ ۱۵ دسمبر ۱۹۰۰) اس چیلنج اور متحد یا نہ دھوئی پر جو صادق اور کاذب کے لئے بطور معیار تھا اور جس میں پیر صاحب کی غیرت کو پرزور اپیل کی گئی تھی پیر صاحب گولڑوی جز بز تو بہت ہوئے ، اُن کے مریدوں نے گالیوں کے سلسلہ کو بھی تیز کر دیا مگر ستر دن گزر گے اور وہ سورہ فاتحہ کی عربی تفسیر شائع نہ کر سکے۔اور کس طرح کر سکتے تھے جبکہ آسمان پر فیصلہ ہو چکا تھا مَنَعَهُ مَانِعَ مِنَ السَّمَاءِ - کیا دنیا کا ایک بھی تنفس انسان اس امر کی تردید کر سکتا ہے کہ پیر گولڑوی اور اس کے رفیق اس مقابلہ میں صریح شکست کھا گئے اور وہ غلط سلط بھی کچھ نہ لکھ سکے؟ یہ صرف الهمم ایک کھلا مجزہ ہے۔ادھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان دنوں میں باوجود عوارض مختلف محض تائید ربانی سے ایک معنیم کتاب ساڑھے بارہ جز و فصیح " عربی میں بطور تفسیر سورۂ فاتحہ شائع فرمائی اور اس کے سرورق پر بخط جلی رقم فرمایا:۔۔فَإِنَّهُ كِتَابٌ لَيْسَ لَهُ جَوَابٌ وَمَنْ قَامَ لِلْجَوَابِ وَتَنَمَّرَ فَسَوْفَ يرى أَنَّهُ تَعَلَّمَ وَتَذَمَّرَ۔۔ترجمہ۔یہ وہ کتاب ہے جس کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا۔جو شخص جواب کے لئے کھڑا ہوگا اور تیاری کرے گا وہ دیکھے گا کہ کس طرح نادم اور شرمندہ ہوتا ہے۔" پس اعجاز المسیح“ کیا ہے؟ خدا تعالے کی تائید کا گھلا نشان، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی پر برہان قاطع ، اور معاندین کے لئے مسکت اور درخشندہ معجزہ جو تا قیامت پوری آب و تاب (277)