تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 273 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 273

کی زبان بند ہو گئی۔نہ وہ فصیح عربی پر قادر ہو سکے اور نہ وہ حقائق و معارف سورتِ قرآنی میں سے کچھ لکھ سکے یا یہ کہ اس مباحثہ سے انہوں نے انکار کر دیا تو ان تمام صورتوں میں ان پر واجب ہوگا کہ وہ تو بہ کر کے مجھ سے بیعت کریں۔“ (اشتہار ۲۰ / جولائی ۱۹۰۰ ء ) اس جلالی اور پر شوکت اعلان سے گولڑوی پر اوس پڑ گئی۔گولڑوی صاحب نے فرار کے لئے ایک حیلہ تراشا جو عند العقلاء عذر گناه بدتر از گناه کا مصداق تھا۔آپ اپنے جوابی اشتہار میں لکھتے ہیں :- یں امید کرتا ہوں کہ مرزا صاحب بھی میری ایک ہی گزارش کو بسلکِ شرائط مجوزہ کے منسلک فرما دیں گے وہ یہ ہے کہ پہلے مدعی مسیحیت و مہدویت و رسالت لسانی تقریر سے بمشافہ حضار جلسہ اپنے دعوئی کو بپایہ ثبوت پہنچاوے گا بجواب اس کے نیازمند کی معروضات عدیدہ کو حضرات حاضرین خیال فرما کر اپنی رائے ظاہر فرما دیں گے۔مجھ کو شہادت و رائے تینوں علماء کرام مجوزہ مرزا صاحب ( یعنی مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی۔مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی مولوی عبد اللہ صاحب ٹونکی پروفیسر لاہوری) کے قبول کرنے میں کچھ عذر نہ ہوگا۔بعد ظہور اس کے کہ مرزا صاحب اپنے دعوی کو بپایہ ثبوت نہیں پہنچا سکے مرزا صاحب کو بیعت تو بہ کرنی ہوگی۔بعد اس کے عقائد معدودہ مرزا صاحب میں جن میں جناب ساری اُمتِ مرحومہ سے منفرد ہیں بحث تقریری واظہار رائے ہوکر مرزا صاحب کو اجازت مقابلہ تحریری کی دی جاوے گی۔“ حضرات! اسی کا نام ہے ” سوال گندم جواب چینا۔لیکن اسی پر کیا بس ہے آپ کے ایک مرید مولوی غازی صاحب نے اسی اشتہار کے ساتھ بطور ضمیمہ جو اشتہار شائع کیا اس میں صاف لکھ دیا :- د قبل از بحث تحریری مذکوره مجوزہ مرزا صاحب ایک بحث تقریری دعوای مسیحیت و مهدویت وغیرہ عقائد مرزا صاحب پر جو تعداد میں تخمینا ۱۳۶ کے لے آپ کو بھلا ان کی رائے سے کیوں عذر ہونے لگا جبکہ وہ پہلے ہی مدعی مسیحیت کے کفر پر شہر میں لگا چکے ہیں خوب۔و ہی قاتل و ہی مخبر وہی خود منصف ہے وہ اولیا میرے کریں خون کا دعوی کس پر (ابو العطاء) (273)