تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 270 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 270

کے اعجازی کلام کے متعلق پورے پانچ صفحے سیاہ کئے ہیں۔اور ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ مضمون عنوان فصل سے تعلق نہیں رکھتا۔ہم درونگو را تا بخانه اش باید رسانید کے مطابق ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کی ان فریب کاریوں کے چہرہ سے بھی پردہ الٹ دیں جو اُس نے ان صفحات میں اختیار کی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی غیر معمولی تائید کے ذریعہ مدعیان علم کو عاجز کرنے والا کلام عطا فرمایا۔آپ نے آسمانی تائید سے متعدد کتب ارقام فرمائیں ، عربی زبان میں ارقام فرما ئیں ، جس زبان کا بقول مخالف علماء آپ ایک صیغہ نہ جانتے تھے۔اس میں قرآن مجید کے حقائق و معارف بکثرت تحریر کئے۔مخالف مولویوں کو مبارزت کی دعوت دی اور مقابلہ کرنے پر ہزاروں اور سینکڑوں روپے انعام مقرر فرمایا۔غیرت دلائی۔مقابلہ کے لئے اُکسایا۔مگر آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل پہ بلا یا ہم نے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو بھی بطور معجزہ طاقتِ کلام دی گئی تھی وَيُعَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا ( آل عمران رکوع ۵) اس لئے ضروری تھا کہ مثیل مسیح کو بھی کلام کا معجزہ دیا جاتا۔چنانچہ دیا گیا۔مگر پہلے مسیح کا معجزہ بچپن کا معجزہ تھا۔اس لئے وہ بعینہ قائم نہ رہ سکا۔لیکن مسیح محمدی کو کامل معجزہ دیا گیا۔اس کی نطق میں معجزانہ قوت کا اظہار کیا گیا۔وہ فصاحت و بلاغت اور نکات قرآنی سے معمور کیا گیا اسلئے اس کا معجزہ آج بھی زندہ ہے اور تا قیامت زندہ رہے گا۔نیز اس قسم کا معجزہ اسلئے بھی ضروری تھا کہ قرآن مجید نے آیت وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِبنَ لَهُمْ میں رسالت کی علامت ہی اس کو قرار دیا ہے۔چنانچہ آیت بالا کی تفسیر میں لکھا ہے :۔إلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ أَى مُتَكَلَّمَا بِلُغَةِ مَنْ أرْسِلَ إِلَيْهِمُ مِنَ الْأُمَمِ۔(روح المعانی جلد ۴ صفحه ۲۰۹) مدارک التنزیل میں لکھا ہے " إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ : إِلَّا مُتَكَلَّمَا بِلُغَتِهِمْ (برحاشيه خازن جلد ۳ صفحہ ۸۲) گویا ہر نبی کو اس کی قوم کی زبان دی جاتی ہے۔یعنی وہ اس میں نہایت فصیح و بلیغ (270)