تفہیماتِ ربانیّہ — Page 271
کلام کرتا ہے۔اسی کی تشریح میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِهِ وَخَوَامَهُ ( مجمع البجارزير لفظ ختم ) پس ان ہر دو وجوہ کے ماتحت مسیح موعود کے لئے ضروری تھا کہ اس کو مسلمانوں کی مذہبی زبان عربی میں ( جو تمام ممالک کے اہل اسلام کی مشترکہ دینی زبان ہے ) فصاحت و بلاغت کا معجزانہ مقام بخشا جاتا۔سیدنا حضرت مرزا صاحب نے اس ضمن میں بکمال وضاحت اتمام حجت کردی۔آپ نے تحریر فرمایا تھا کہ :- ”ہماری یہ دعوت آئندہ نسلوں کے لئے بھی ایک چمکتا ہو ا ثبوت ہماری طرف سے ہوگا۔“ (اشتہار ۱۵ دسمبر ) اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج تک ایسا ہی ثابت ہوا ہے اور تا قیامت ثابت ہوتا رہے گا اس سلسلہ میں حضور کی دو کتابیں اعجاز اسی اور اعجاز احمد می خاص حیثیت رکھتی ہیں۔ان کے مقابلہ پر تصنیف کرنے والوں کے لئے رقم خطیر انعام بھی مقرر کی گئی مگر کوئی ان کی مثل نہ بنا سکا۔معترض پٹیالوی نے ان دو کا ہی ذکر کیا ہے۔ہم بھی انہی پر اکتفاء کرتے ہیں۔اعجازالمسيح یہ وہ معرکۃ الآراء اور عظیم الشان تصنیف ہے جو رہتی دنیا تک احمدیت کی صداقت کا درخشندہ ثبوت ہے۔پیر مہر علیشاہ صاحب آف گولڑہ ضلع راولپنڈی نے ایک کتاب بنام دو شمس الہدایہ شائع کی اور اس میں فہم قرآن کا دعویٰ کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۰ جولائی ۱۹۰۰ ء کو ایک اشتہار اس کے جواب میں شائع کیا اور مہر علی شاہ صاحب کو دعوت مقابلہ دیتے ہوئے لکھا :- مناسب ہے کہ لاہور میں جو صدر مقام پنجاب ہے صادق اور کاذب کے پرکھنے کے لئے ایک جلسہ قرار دیا جائے اور اس طرح سے مجھ سے مباحثہ کریں کہ قرعہ اندازی کے طور پر قرآن شریف کی کوئی سورت نکالیں اور اس میں سے چالیس آیت یا ساری سورۃ (اگر چالیس آیات سے زیادہ نہ ہو ) لیکر فریقین یعنی یہ عاجز اور مہر علی شاہ صاحب اول یہ دعا کریں کہ یا 271