تفہیماتِ ربانیّہ — Page 22
ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ کوئی دوسرا مدعی وحی ہمہ وجوه ۲۳ سال مهلت پانے پر صادق قرار نہ پائے؟ پھر میں کہتا ہوں کہ ہمارے مخالف محض ہماری عداوت سے قرآن مجید کی ایک زبر دست دلیل کو ناقص قرار دے رہے ہیں۔اگر وہ ذرا بھی غور کریں تو انہیں معلوم ہو جائے کہ اگر کسی کا ذب نبی کو ۲۳ برس تک مہلت ملناممکن ہے اور واقعات کی رُو سے ایسا ہوا ہے تو منکرین اسلام کے سامنے وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا کی دلیل ہرگز پیش نہیں ہو سکتی۔وہ فورا کہہ سکتے ہیں کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ۲۳ برس مہلت مل گئی تو فلاں کا ذب مدعی کو بھی مل گئی ہے۔فما هُوَ جَوَابُكُمْ فَهُوَ جَوَابُنَا۔بھائیو! نص قرآنی کو باطل نہ کرو اور حضرت احمد کی دشمنی میں قرآن مجید کو مت چھوڑو۔یاد رکھو کہ دلیل جہاں پائی جائے گی اس کا نتیجہ بھی لازمی طور پر پایا جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ آج تک تمام علماء متکلمین اس کو عمومی رنگ میں ہی پیش کرتے رہے ہیں۔صاحب تفسیر روح البیان نے تو " صاف لکھا ہے :- لَعَاقِبَهُ الله وَهُوَاَ كَرَمُ النَّاسِ عَلَيْهِ فَمَا ظَنُّكَ بِغَيْرِهِ۔“ کہ جب خدا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر میں یہ سزا بتائی ہے حالانکہ حضور بارگاہ ایزدی میں سب سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر دوسرا کوئی مفتری کیونکر سزا سے بچ سکتا ہے۔( جلد ۴ صفحہ ۴۶۲) فتدبر ! قارئین کرام ! آپ معاندین کے اسی استدلال پر حیران نہ ہوں۔باطل پرستی انسان کو صداقت سے بہت دور لے جاتی ہے۔دیکھئے لکھا ہے :۔اگر فرض بالمحال نبی بالعموم مراد لیا بھی جائے تو پھر ضروری ولا بدی ہے کہ پہلے سچا نبی ہو تو پھر جھوٹ بولے تو پھر خداوند تعالیٰ اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔“ (کرک صفحہ ۸) معترض نے اس اعتراض میں مفتری کی جلد ہلاکت کا استدلال تو وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا سے تسلیم کر لیا ہے۔اب صرف اس الجھن میں ہے کہ سچا نبی ہو اور پھر جھوٹ بولئے بندۂ خدا! اگر وہ سچا نبی ہے تو جھوٹ نہیں بول سکتا۔اور 22