تفہیماتِ ربانیّہ — Page 264
یعنی آنحضرت ہمیشہ خائف رہے کہ ابن صیاد دجال ہے۔حضرت عمرؓ، حضرت ابن عمرؓ اور حضرت جابر انصاری کا تو اعتقاد تھا کہ یہی دجال ہے۔“ ایک طویل بیان کے بعد لکھا ہے :- لَاشَ أَنَّهُ مِنْ جُمْلَةِ الدَّجَّالِينَ۔( بر اس صفحہ ۵۸۶) که بلا شبه ابن صیاد دجالوں میں سے ایک دجال تھا۔“ نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں :- غایت حدیث ابوسعید آنست که این صیاد یکی از دجاجله باشد حج الكرامه صفحه ۴۱۷) غرض ابن صیاد کا مطلق دجال ہونا سب کو مسلم ہے اور یہی حضرت مرزا صاحب نے لکھا ہے باقی دجال معہود حضرت نے پادریوں کو قرار دیا ہے اور یہی درست ہے۔مولوی برخوردار حاشیہ نبراس میں ملا علی القاری کا قول نقل کرتے ہیں :- يُمْكِنُ أَنْ يَكُونَ لَهُ لِلدَّجَالِ أَبْدَانٌ مُخْتَلِفَةٌ فَظَاهِرُهُ فِي عَالَمِ الْحِسَ وَالْخَيَالِ دَائِرٌ مَعَ اخْتِلَافِ الْأَحْوَالِ وَبَاطِنُهُ فِي عَالَمِ الْمَقَالِ مُقَيَّد بِالسَّلَاسِلِ وَالْأَغْلَالِ وَلَعَلَّ الْمَانِعَ مِنْ ظُهُورِهِ كَمَا لَهُ فِي الْفِتْنَةِ وَوُجُوْدُ سَلاسِلِ النُّبُوَّةِ۔( نبر اس صفحہ ۵۸۵) یعنی دجال کا مصداق ابدانِ مختلفہ ہو سکتے ہیں۔پھر واقعات نے بتا دیا ہے کہ دجال معہود میں جو ابدان مختلفہ ممکن ہیں ان سے کیا مراد ہے۔پادریوں کا دجال معہود ہونا تو اتنا واضح ہے کہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کو بھی شائع کرنا پڑا :- مسلمانو! جزیرہ عرب میں مشنریوں کا جانا یہ خاص علامت قرب قیامت ہے۔جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جزیرہ عرب میں شیطان اس سے نا امید ہو چکا کہ بجز اللہ سجانہ کوئی دوسرا معبود پو جا جائے لیکن آپس کی تحریش البتہ ہوگی لیکن ساتھ اس کے یہ بھی فرمایا گیا کہ قریب قیامت کے دجال بجز حرمین تمام جگہ عرب میں پہنچ جائے گا۔پس اگر مشنریوں کا گزر جزیرۂ عرب میں ہوا تو یقین جانو کہ قیامت نہایت قریب (264)