تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 265 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 265

ہے اور بہت بڑا انقلاب ہونے والا ہے۔“ (اخبار اہلحدیث ۸ / مارچ ۱۹۱۲ء صفحه ۴) ناظرین کرام ! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ دجال کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے اس میں اختلاف بیانی کا شائبہ تک نہیں بلکہ وہی بیان معقول ، درست، اور احادیث صحیحہ کے مطابق ہے۔پٹیالوی معترض نے اس بیان کو اختلاف بیانی کے ضمن میں درج کر کے صریح بے انصافی اور بددیانتی کا مظاہرہ کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نبر اس کے یہ الفاظ آپ پڑھ چکے ہیں۔لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ يَخَافُ آنَّهُ الرّجالُ اب اگر حضرت مرزا صاحب نے لکھ دیا کہ حضور پر دجال کی حقیقتِ کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں تو اس میں کونسی قباحت لازم آتی ہے۔عالم الغیب تو صرف خدا تعالے کی ہی ذات ہے۔- لطیفہ۔ہر چیز کا ایک مذاق ہوتا ہے۔جو شخص نکتہ سنج نہ ہو اگر وہ اس میدان میں دم مارے گا تو منہ کے بل گرے گا۔پٹیالوی معترض نے نہایت بھونڈے پن سے لطیفہ کے عنوان سے لکھا ہے (مرزا صاحب کی رُوح سے سوال ) یعنی " آپ مسیح کس طرح ہوئے جبکہ آپ کا دجال ابن صیاد ۱۳۰۰ برس ہوئے گزر چکا (عشرہ صفحہ ۶۳) الجواب - سچ ہے۔اُلٹی سمجھ کسی کو بھی ایسی خدا نہ دے دے آدمی کو موت پہ یہ بلا دانہ دے جناب من ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کب ابنِ صیاد کود حال معہود قرار دیا جو آپ کو اس قدر لطیفہ گوئی کی زحمت اٹھانی پڑی؟ حضرت نے اس کو صرف ایک دجال قرار دیا ہے۔دجال معہود تو پادریوں کا گروہ ہے جو اس وقت اسلام کے استیصال کے درپے ہیں۔اسی لئے تو خدا کے شیر پیغمبر (265)