تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 262 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 262

سراسر دھوکا ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ساری کتاب ”فتح اسلام میں کسی جگہ ایسا نہیں لکھا۔یہ محض معترض کی مغالطہ دہی ہے۔اگر چہ حضرت مرزا صاحب نے تو ایسا نہیں لکھا مگر ایسے لوگ خود اپنی غلط بیانی اور دروغ بافی کے ذریعہ اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔پھر معترض نے پادریوں اور با اقبال قوموں کو الگ الگ بیان کیا ہے، حالانکہ حضرت نے ازالہ اوہام میں با اقبال قوموں سے مراد پادریوں کا گروہ ہی لیا ہے۔غرض اس اعتراض میں اوّل تو معترض نے غلط بیانی اور پھر مغالطہ دہی سے کام لیا ہے۔(۲) دجال کے معنے مطلق ہیں۔لکھا ہے :- معنی دجال برصیغہ مبالغه بسیار فریب دهنده تلبیس کننده بر مردم است و درین معنی ست قول و مللم وقتیکه خطبه کرد ابوبکر فاطمه را عليها السلام إِنِّي وَعَدْتُهَا لِعَلِيِّ وَلَسْتُ بِدَجال یعنی من خداع على و ملبس برتونیستم ، حجج الكرامه صفحه ۴۰۱) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی لکھا ہے :- لغت میں دجال جھوٹوں کے گروہ کو کہتے ہیں جو باطل کو حق کے ساتھ مخلوط کر دیتے ہیں اور خلق اللہ کے گمراہ کرنے کے لئے مکر اور تلبیس کو کام میں لاتے ہیں۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۲۰۴ طبع سوم ) ایک اور بات ہمارے علماء کے لئے غور کے لائق ہے کہ احادیث میں صرف ایک دجال کا ذکر نہیں بلکہ بہت سے دجال لکھے ہیں۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۶۲) پس جب دنبال متعدد ہیں اور کم از کم تیس دجالوں کے متعلق تو غیر احمدی بھی بہت ذکر کیا کرتے ہیں۔تو اگر حضرت مسیح موعود نے دود جالوں کا ذکر کر دیا تو اس میں تناقض کیسے لازم آیا؟ (۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ” دجال معہود“ تو پادریوں کے گروہ کو قرار دیا۔ہاں ابن صیا دکو ایک دجال قرار دیا ہے۔حضور لکھتے ہیں :۔(الف) دجال بہت گزرے ہیں اور شاید آگے بھی ہوں مگر وہ دجال اکبر جن کا (262)