تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 261 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 261

بالآخر یا در ہے کہ ہم اس بات کو گھلا گھلا شرک سمجھتے ہیں کہ جو صفت محض ذات باری کے لئے مختص ہے وہ اس کے غیر کو دی جائے اور حضرت مسیح کو واقعی خالق یقین کیا جائے۔درحقیقت ہمارے مخالفین کی نظر میں ہمارا یہی جرم ہے کہ ہم اس بات کو توحید کامل کے خلاف سمجھتے ہیں۔اور اسی کے باعث ہم ان اصحاب کی نظروں میں مور د عتاب ہیں جو حضرت مسیح کے متعلق غالیانہ خیالات رکھتے ہیں۔افسوس تو یہ ہے کہ اس معجزہ میں غلو کر کے یہ لوگ نصاری سے بھی چار قدم آگے نکل گئے ہیں۔اناجیل کو پڑھ جاؤ وہاں یہ معجزہ حقیقی پرندوں کی پیدائش کا کہیں نہ دیکھو گے۔اگر یہ واقعہ تھا تو کیا ممکن تھا کہ انجیل نویں مزید مبالغہ کی چادر چڑھا کر اس کو ذکر نہ کرتے ؟ ان کا ذکر نہ کرنا صاف دلالت کرتا ہے کہ یہ پرندے حقیقی پرندے نہیں تھے۔یا تو روحانی پرندے مراد ہیں یا مجازی۔کیا مز پس ے کیوں بنایا ابنِ مریم کو خدا سنت اللہ سے وہ کیوں باہر رہا ہے وہی اکثر پرندوں کا خدا اس خدا دانی پہ تیرے مرحبا مولوی صاحب ! یہی توحید ہے سچ کہو رکس دیو کی تقلید ہے دسواں اختلاف (در رشین) دجال کے متعلق مرزا صاحب کی تحقیقات۔اس عنوان کے ماتحت معترض پٹیالوی لکھتا ہے :- (الف) علماء مخالفین مرزا دجال ہیں۔(فتح اسلام صفحہ ۹) (ب) با اقبال قو میں دنبال ہیں۔ریل ان کا گدھا ہے (ازالہ اوہام صفحہ ۱۳۴) (ج) پادری دجال ہیں (ازالہ اوہام صفحہ ۱۵۹-۱۶۱) (1) ابن صیاد دجال ہے (ازالہ) یہ چاروں اقوال درج کر کے معترض لکھتا ہے کہ :- چاروں اقوال جدا گانہ ہیں۔“ (عشرہ صفحہ ۶۲) الجواب - (۱) تحقیقات“ کو ” اختلاف بیانی“ اور ” کلام متناقض قرار دینا منشی صاحب اور دیوبندی اصحاب کا ہی کام ہوسکتا ہے۔حوالہ نمبر الف میں آپ نے جو لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مخالف علماء کو دقبال موعود قرار دیا ہے یہ (261)