تفہیماتِ ربانیّہ — Page 259
با انصاف انسان کا فرض ہے کہ حقیقت پر غور کرے اور یونہی اندھا دھند اعتراض نہ کرتا چلا جائے۔حضرت اقدس کا عمل الترب" کے لفظ سے حضرت مسیح کے اعجازی خلق کو رڈ کرنا د نظر نہیں بلکہ حضور تو اس پر ایمان رکھتے ہیں جیسا کہ او پر عبارت درج ہو چکی ہے۔خرق عادت اور مقدور بشر ممکن ہے اس جگہ کسی کو یہ وہم دامنگیر ہو کہ جب یہ معجزہ عمل الترب ہے تو پھر مقدور بشر ٹھہرا اس لئے خرق عادت نہ رہا۔اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مندرجہ بالا تصریحات کی موجودگی میں یہ وہم از خود رفع ہو جاتا ہے لیکن تاہم ذیل میں مولا نا محمد اسمعیل صاحب شہید دہلوی کا ایک حوالہ درج کیا جاتا ہے تا خرق عادت کا صحیح مفہوم ذہن نشین ہو سکے۔آپ فرماتے ہیں :- لازم نیست کہ ہر خرق عادت خارج از مطلق طاقت بشر می باشد بلکه ہمیں قدر لازم است که به نسبت صاحب خارقه صدور آن خلاف عادت باشد بجهة فقدان ادوات و آلات پس بسیار چیز است که ظهور آن از مقبولین حق از قبیل خرق شمرده مے شود حالانکہ امثال ہماں افعال بلکہ اقومی واکمل ازاں از ارباب سحر و اصحاب طلسم ممکن الوقوع باشد پس وقتیکه بر حاضران واقعہ ایس قدر ثابت باشد که صاحب خارق مہارت در فنِ سحر و طلسم نے دارد پس لابد صدور خارقہ مذکورہ علامت صدق او تواند بود ولهذا نزول مائده از معجزات حضرت مسیح شمرده می شود بخلاف آنچه اہل سحر بسیاری از اشیاء نفیسه از جنس میوه و شیرینی باستعانت شیاطین حاضر می آرند ( رساله منصب امامت صفحه ۱۷-۱۸) میں سمجھتا ہوں کہ مولانا مرحوم نے مانحن فیہ کے متعلق بھی بہت اچھا فیصلہ کر دیا ہے پس حضرت مسیح کے معجزہ خلق الطیور کو عمل الترب یا لکڑی کی کل وغیرہ کے باعث قرار دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ خارق عادت نہ تھا یا علامت صداقت حضرت مسیح ناصرتی نہ تھا۔میں کہتا ہوں کہ اگر چہ حضرت اقدس علیہ السلام نے تالاب کی مٹی کے امکان کو عیسائیوں پر چوٹ کے (259)