تفہیماتِ ربانیّہ — Page 18
ط (۸) فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِايْتِهِ أُولَبِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُمْ من الكتب الآيه (الاعراف رکوع ۴) کون زیادہ ظالم ہے مفتری سے یا مکذب آیات اللہ سے۔ایسے لوگوں کو اُن کا مقرر حصہ ( عذاب و سزا کا ) ضرور ملے گا۔گویا مفتری علی اللہ کے لئے بھی سزا مقرر ہے جیسا کہ دوسری آیات سے واضح ہے۔(1) قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَلَا تَمْلِكُونَ لِي مِنَ اللهِ شَيْئًا، الآي ( الاحقاف رکوع ۱ ) اے رسول کہہ دے کہ اگر میں نے یہ افتراء کیا ہے تو تم اللہ کی سزا سے میرے لئے کسی چیز کے مالک نہیں ہو سکتے۔(١٠) قُلْ يُقَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيْهِ عَذَابٌ تُخْزِيْهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيمٌ (زمررکوع ۴ ) اے نبی ان سے کہدے کہ میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کرو میں اپنی جگہ عمل کرتا ہوں عنقریب تم جان لو گے کہ کس پر ذلیل گن عذاب (دنیا میں ) آتا ہے اور پھر عذاب مقیم ( آخرت میں ) اُترتا ہے۔تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ - یہ دس آیات اس باب میں قطعی الدلالت ہیں کہ مفتری ہلاک کیا جاتا ہے، اپنے مقصد میں ناکام رہتا ہے، جلد تباہ کیا جاتا ہے اور مور د عذاب بنتا ہے۔پس آیت ولو تقول علینا کا مفہوم تفاسیر اور دیگر آیات کی روشنی میں وہی ہے جو اوپر ذکر ہو چکا ہے۔تورات و انجیل کے دست حوالے اور مفتری کی ہلا کہ لکھا ہے :- ہلاکت (1) ” خداوند یوں کہتا ہے ان نبیوں کی بابت جو میرا نام لیکے نبوت کرتے ہیں جنہیں میں نے نہیں بھیجا اور جو کہتے ہیں کہ تلوار اور کال اس سرزمین پر نہ ہوگا۔یہ نبی تلوار اور کال سے ہلاک 66 کئے جائیں گے۔یرمیاہ ۱۳/۱۵) (۲) وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اُسے حکم نہیں دیا۔یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی فعل کیا جائے۔(استثناء ۱۸/۲۰) 18