تفہیماتِ ربانیّہ — Page 208
الجواب - حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گرتہ کے علاوہ صرف حضرت مولوی عبداللہ صاحب مرحوم کی ٹوپی پر چند قطرات پڑے تھے۔جس کو پٹیالوی معترض نے ” آدمیوں کو سرخی سے رنگ دیا کے لفظوں سے تعبیر کیا ہے حالانکہ وہ سُرخ دھبتے خدا تعالیٰ کی طرف سے نشان تھے اور اس لئے ڈالے گئے تھے تا وہ نشان بن جائیں۔ربنا أمنا فاكتبنا مع الشاهدين - ان تمام نکتے اعتراضات سے معترض نے محض اپنی اسلام دشمنی کا ثبوت دیا ہے ورنہ آر دیکھ چکے ہیں کہ ان میں ذرہ بھی وزن نہیں۔اب ہم ان اعتراضات کا مکمل جواب درج کر چکے ہیں جو معترض پٹیالوی نے اپنی فصل چہارم میں درج کئے تھے لیکن ہم اس فصل کو ختم کرنے سے پہلے چند سطور ضروری طور پر لکھنا چاہتے ہیں۔الزامی جوابات کی وجہ اگر چہ معاند اور ضدی دشمن کے سامنے الزامی جواب زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں لیکن اس طریق پر بعض دفعہ عوام الناس کو دھوکا دینے کے لئے علماء کہ دیا کرتے ہیں کہ دیکھو صاحب یہ تو اسلام پر بھی اعتراض کر رہے ہیں۔احادیث پر بھی جرح کرتے ہیں۔اور بعض کندہ نا تراش اس بات سے مشتعل ہو کر حقیقت کے سمجھنے سے محروم رہ جاتے ہیں اس لئے ہم نے اس کی خوب وضاحت کر دی ہے کہ ہم ان باتوں کو غلط نہیں قرار دیتے بلکہ ان پر ایمان رکھتے ہوئے حضرت مرزا صاحب کے الہامات اور آپ کی باتوں کو ان پر پر کھتے ہیں اور ان کی مطابقت کی وجہ سے اُن پر ایمان لاتے ہیں۔کیونکہ اب دو ہی صورتیں ہیں (۱) اگر یہ غلط ہیں تو دونوں غلط ہیں (۲) اگر یہ درست ہیں تو دونوں قابل تسلیم ہیں۔اور جو بات منہاج نبوت اور اولیاء امت کے عقائد، خیالات اور تحریروں سے ثابت ہو اس کو کوئی متدین انسان خلاف شریعت نہیں کہ سکتا۔پس اول تو ہمارے الزامی جوابات اس نوعیت کے ہیں۔دوسرے معترض پٹیالوی نے حضرت مسیح موعود کے متشابہ الہامات کو نشانہ اعتراض بنا کر مطالبہ کیا ہے کہ ”مرزائیو! ذرا ایمان سے کہنا کہ کسی نبی کو اس قسم کے الہام ہوئے ہیں؟ ( عشرہ صفحہ ۴۹) اس لئے چند ایسے الہامات جن پر نادان مکذب اعتراض کیا کرتے ہیں پیش کر دیئے (208)